احکام نماز

سجدہ کرتے وقت عورتیں کہنیاں کیسے رکھیں؟

فتوی نمبر :
6638
| تاریخ :
2009-07-09
عبادات / نماز / احکام نماز

سجدہ کرتے وقت عورتیں کہنیاں کیسے رکھیں؟

السلام علیکم! میں ایک پاکستانی ہوں مشرق وسطیٰ میں رہ رہا ہوں، یہاں کی اکثر خواتین جو امریکہ، کنیڈا سے تعلق رکھنے والی ہیں، میری والدہ اور اہلیہ کی طرزِ نماز اور دورانِ سجدہ کے متعلق بحث وتنقید کرتی ہیں ، اور مذکورہ سائٹ سے بخاری ، مسلم، ابوداؤد اور مسند احمد کا حوالہ دیتی ہیں۔
براہِ کرم آپ وضاحت کریں کہ، عورت کے لیے سجدہ کی حالت میں کہنیاں زمین سے جدا رکھنی ہیں یا جیسے رکھی جاتی ہیں (جائے نماز کے ساتھ ملا کر) صحیح ہے؟ اگر موجودہ طریقہ صحیح ہے تو ان کی بحث کے دوران ہم کیا دلائل پیش کر سکتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ عورتوں کی نماز کا طریقہ بالکل مردوں کی نماز کی طرح ہونا صراحتاً ثابت نہیں، بلکہ عورتوں کی نماز کا طریقہ مردوں کے طریقہ نماز سے جدا ہونا بہت سی احادیث اور آثارِ صحابہ وتابعین سے ثابت ہے ، اور وہ طریقہ یہ ہےکہ ، عورتوں کے طریقہ نماز میں زیادہ سے زیادہ پردہ اور جسم سمیٹ کر ایک دوسرے عضو سے ملانے کا حکم ہے ، اور یہ طریقہ حضورﷺ کے زمانہ مبارکہ سے آج تک اُمت میں متفق علیہ اور عملاً متواتر ہے ، آج تک کسی صحابی، تابعی، تبع تابعی یا دیگر فقہاء امت میں سے کسی کا ایسا فتویٰ نظر نہیں آیا جس میں عورتوں کی نماز کو مردوں کی نماز کے مطابق قرار دیا گیا ہو ، لہٰذا عورتوں کو چاہیئے کہ انضمام (اکھٹی ہو کر) اور انخفاض (سمٹ کر اور کہنیاں زمین پر بچھا کر ) ہونے کی حالت میں نماز ادا کریں، تاکہ ان کا ستر بدستور باقی رہے اور یہی ان کے لیے صحیح طریقہ نماز ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی السنن الكبرى للبيهقي: عن الحارث قال: قال علي رضي الله عنه "إذا سجدت المرأة فلتضم فخذيها" اھ (2/ 314)
وفی مصنف ابن أبي شيبة: عن إبراهيم، قال: «إذا سجدت المرأة فلتلزق بطنها بفخذيها، ولا ترفع عجيزتها، ولا تجافي كما يجافي الرجل» اھ (1/ 242)
وفی اعلاء السنن: عن وائل بن حجر،قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: یا ابن حجر «إذا صليت فاجعل يديك حذاء أذنيك، والمرأة تجعل يديها حذاء ثدييها» اھ (۲/ ۱۵۲)
وفی الهدایة: والمرأة تنخفض في سجودها وتلزق بطنها بفخذيها " لأن ذلك استر لها ( إلی قوله) فإن كانت امرأة جلست على أليتها اليسرى وأخرجت رجليها من الجانب الأيمن " لأنه أستر لها اھ (۱/ ۵۲) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 6638کی تصدیق کریں
0     672
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات