محترم جناب قاضی ومفتی سیف اللہ جمیل صاحب!
دارالافتاء ومدرسہ جامعہ بنوریہ العالمیہ متصل سائٹ تھانہ کراچی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں یہ جائے نماز کی جگہ (جہاں تقریباً ۱۳۶ فلیٹس ہیں اور الحمد للہ ۵ وقت کی نماز باقاعدگی سے ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب نمازی سنت اور نفل ادا کر رہے ہیں تو کچھ حضرات صفوں کے پیچھے بیٹھے دنیاوی گفتگو میں مصروف ہوتے ہیں جس کی وجہ سے نمازیوں کو سنت اور نفلوں کی ادائیگی میں خلل پڑتا ہے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں۔
مسجد ہو یا جائے نماز جب لوگ نماز وغیرہ عبادات میں مشغول ہوں، ان کے پاس یا پیچھے بیٹھ کر اتنی اُونچی آواز میں گفتگو کرنا، چاہے دینی یا دنیوی، جس سے ان کی عبادات میں خلل واقع ہوتا ہو شرعاً گناہ پر مبنی عمل ہے، اس لیے متعلقہ افراد کو اپنے مذکور طرزِ عمل سے احتراز لازم ہے۔
ففی حاشية ابن عابدين: (قوله ورفع صوت بذكر إلخ) أقول: اضطرب كلام صاحب البزازية في ذلك؛ فتارة قال: إنه حرام، وتارة قال إنه جائز. (إلی قوله) وفي حاشية الحموي عن الإمام الشعراني: أجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها إلا أن يشوش جهرهم على نائم أو مصل أو قارئ اھ (1/ 660)