احکام نماز

دوران نماز شوہر کا بیوی کو بلانے پر نماز توڑنے کا حکم

فتوی نمبر :
66118
| تاریخ :
2023-07-15
عبادات / نماز / احکام نماز

دوران نماز شوہر کا بیوی کو بلانے پر نماز توڑنے کا حکم

اگر بیوی نماز پڑھ رہی ہو اور شوہر آواز دے تو بیوی کی نماز توڑنا کیسا ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ دورانِِ نماز شوہر کے بلانے یا گھر کے کسی دوسرے فرد کے بلانے میں شرعا کوئی فرق نہیں، بلکہ دونوں کا حکم یکساں ہے، اس لیے اگر شوہر اپنی بیوی کو اس طرح مدد کے لیے بلارہاہو کہ، بیوی کا نماز نہ توڑنے اور ان کی مدد نہ کرنے کی وجہ سے شوہر کو کسی اذیت میں مبتلاہونے یا نقصان پہنچنے کا قوی اندیشہ ہو، تو بیوی پر نماز توڑکر شوہر کی مددکرنا لازم ہے، ورنہ عام حالات میں جب شوہر کو معلوم ہو کہ، بیوی نماز پڑھ رہی ہے، تو اس کے لیے بیوی کو دوران نماز بلانا اور بیوی کا نماز توڑنا ہر دوامور شرعادرست نہیں، بلکہ بیوی کو اپنی نماز مکمل کرنا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: "ويجب القطع لنحو إنجاء غريق أو حريق ولو دعاه أحد أبويه في الفرض لا يجيبه إلا أن يستغيث به وفي النفل إن علم أنه في الصلاة فدعاه لا يجيبه وإلا أجابه اھ
وفی رد المحتار تحت(قوله: ويجب) أي يفترض (قوله: لايجيبه) ظاهره الحرمة سواء علم أنه في الصلاة أو لا ط(قوله: إلا أن يستغيث به) أي يطلب منه الغوث والإعانة، وظاهره ولو في أمر غير مهلك واستغاثة غير الأبوين كذلك ط والحاصل أن المصلي متى سمع أحدا يستغيث وإن لم يقصده بالنداء، أو كان أجنبيا وإن لم يعلم ما حل به أو علم وكان له قدرة على إغاثته وتخليصه وجب عليه إغاثته وقطع الصلاة فرضا كانت أو غيره (قوله: لايجيبه) عبارة التجنيس عن الطحاوي: لا بأس أن لا يجيبه قال ح: وهي تقتضي أن الإجابة أفضل تأمل اهـ.قلت: ومقتضاه أن إجابته خارج الصلاة واجبة أيضا بالأولى والظاهر أن محله إذا تأذى منه بترك الإجابة لكونه عقوقا تأمل اھ (کتاب الصلاۃ،باب ادراک الفریضۃ،ج:۲،ص:۵۱،۵۲,سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 66118کی تصدیق کریں
0     1698
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات