نجاسات اور پاکی

بدن کے خشک نجس حصے کا پسینہ سے تر ہونے کا حکم

فتوی نمبر :
66063
| تاریخ :
2023-07-13
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

بدن کے خشک نجس حصے کا پسینہ سے تر ہونے کا حکم

نجاست میں بھیگا ہوا خشک حصہ پسینہ سے تر ہو جائے تو کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جسم پر لگی ہوئی نجاست محض خشک ہوجانے سے پاک نہیں ہوتی ، بلکہ پاک کرنے کے لۓ اسے پانی کے ساتھ باقاعدہ دھونا لازم اور ضروری ہے، اس لۓ جسم پر لگی ہوئی نجاست اگر پانی کے ساتھ دھوئے اور پاک کئے بغیر اپنی جگہ باقی رہ کر خشک ہوجائے اور بعد میں پانی لگنے یا پسینہ آنے کے بعد دوبارہ گیلی ہوجائے، تو وہ خود ناپاک ہونے کے ساتھ جس جگہ یا کپڑے کو لگ جائے تو وہ بھی ناپاک ہوجائے گا،جس کو دھو کر پاک کرنا لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما رد المحتار: "لَوْ غُسِلَ فِي غَدِيرٍ أَوْ صُبَّ عَلَيْهِ مَاءٌ كَثِيرٌ، أَوْ جَرَى عَلَيْهِ الْمَاءُ طَهُرَ مُطْلَقًا بِلَا شَرْطِ عَصْرٍ وَتَجْفِيفٍ وَتَكْرَارِ غَمْسٍ هُوَ الْمُخْتَارُ". (1/333، باب الانجاس، ط؛ سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 66063کی تصدیق کریں
0     1341
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات