گاؤں کے لوگ کسی تنازعہ کی وجہ سے دو گروہوں میں تقسیم ہو گۓ،بعد میں دونوں گروہوں کا اکثر مسجد میں کسی نہ کسی بات پر شور شرابہ ہو جاتا، تو اب مجبوراً ایک گروہ ایک عالم کو امام بنا کر حجرہ میں باجماعت نماز پڑھتے ہیں ،جبکہ قریب دوسری مسجد بھی نہیں ،تو اب کیا اس حجرہ میں مستقل باجماعت نماز پڑھنا صحیح ہے یا نہیں ?
ایک ہی گاؤں اور محلہ کے لوگوں کا آپس میں اختلافات اور لڑائی جھگڑا اختیارکرنا اور پھر ان ذاتی مسائل کو مسجد تک لانا انتہائی درجہ نامناسب اور غیر شرعی عمل ہے، لہذا اولًا تو دونوں گروہوں کو چاہیۓ کہ باہم اختلافات کو ختم کرکے کوئی درمیانی صورت نکال کر اسی پرمتفق ہونے کی کوشش کریں۔
تاہم جب تک ان کا اتفاق نہیں ہو پاتا، تو اس اختلاف کی وجہ سے مسجد میں پڑھی جانے والی نمازوں کو اپنی ذاتی عناد اور غصہ کی وجہ سے ترک نہ کریں، بلکہ مسجد اللہ کا گھر ہے، کسی کی ذاتی جاگیر نہیں، اور اس میں ہر مسلمان کو برابر نماز پڑھنے کا حق حاصل ہے، اور اس میں سب کو نماز اداکرنے کا اہتمام کرنا چاہیۓ، البتہ اگر پھر بھی کچھ لوگ مسجد میں نماز ادا نہیں کرتے بلکہ حجرے میں الگ امام کی اقتداء میں نمازادا کرتے ہیں، تو ان کی یہ نماز اگرچہ اداء ہوجائیگی ، لیکن انہیں مسجد کا ثواب حاصل نہ ہوگا۔
وفی الفتاوی الھندیۃ:کذا فی مختار الفتاوی،فی وقف الخصاف اذا جعل ارضہ مسجداوبناہ واشھدان لہ ابطالہ وبیعہ فہو شرط باطل ویکون مسجدا کما لو بنی مسجدا لاھل محلۃ وقال جعلت ھذا المسجد لھذہ المحلۃ خاصۃ کان لغیراھل تلك المحلۃ ان یصلی فیہ ھکذافی الذخیرۃ۔( ۲/ ۵۸۔۴۵۷)۔