السلام علیکم! مفتی صاحب امید ہے آپ خیریت سے ہونگے، مجھے ایک اہم مسئلے کی وضاحت درکار ہے، آج کل جموں و کشمیر میں پاور ڈیپارٹمنٹ نے ہر جگہ اسمارٹ میٹر لگا دیے ہیں، جس کی وجہ سے سب لوگوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے, اور جس سے کشمیر میں ہیٹر ، بوائلر، بولیور اور دیگر سامان کا استعمال کرنا مشکل ہوگیا ہے اور اب لوگ زیادہ بل آنے کی وجہ سے رات کو اسمارٹ میٹر لائن کے علاوہ چوری چھپے ایک دوسری لائن کا استعمال کرتے ہیں جس سے وہ لوگ ہیٹر، بوائلر، بولیور وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں، اور اب اگر ان سے اس دوسری لائن کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں یہ ہمارے کشمیر کی پاور ہے اور یہاں کوئی اسلامی خلافت قائم نہیں ہے، لہٰذا اب اگر ہم صبح شام چوری چھپے دوسری لائن کا استعمال کریں اور اپنی ضروریات پوری کریں تو ہم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، مفتی صاحب اب آپ سے اس بارے میں رہنمائی درکار ہے کہ کیا ہم اسمارٹ میٹر کے علاوہ چوری چھپے دوسری لائن کا استعمال کر سکتے ہیں، کیا چوری چھپے دوسری لائن سے پاور حاصل کرنا یا اس سے وضو کرنا ، غسل کرنا یا باقی عبادت کرنا یا کھانا پکانا درست ہوگا ؟ اور اس چوری چھپے کام میں کشمیر کے ہر مکتبۂ فکر کے لوگ شامل ہیں چاہے دیندار لوگ ہوں یا بے دین لوگ۔
واضح ہو کہ کنڈا لگا کر بجلی چوری کرنا یا بغیر میٹر کے غیر قانونی بجلی استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں بلکہ حرام اور گناہِ کبیرہ ہے جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے، تاہم اگر ایسی بجلی کے ذریعے حاصل کردہ پانی سے وضوء اور غسل کرکے نماز اور دیگر عبادات ادا کی گئیں تو وہ نماز وغیرہ درست ادا ہوگئی ہیں، اور کھانا بھی حلال اور جائز ہوگا ، البتہ آئندہ کیلئے اس طرح کے حرام کاموں سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الدر المختار : (و) لكل (شق نهر لسقي أرضه منها أو لنصب الرحى إن لم يضر بالعامة) لأن الانتفاع بالمباح إنما يجوز إذا لم يضر بأحد كالانتفاع بشمس و قمر۔اھ(438/6)۔
و فی رد المحتار : تحت(قوله إن لم يضر بالعامة) فإن أضر بأن يفيض الماء و يفسد حقوق الناس أو ينقطع الماء عن النهر الأعظم أو يمنع جريان السفن تتارخانية ، فلكل واحد مسلما كان أو ذميا أو مكاتبا منعه بزازية ۔ اھ (438/6)۔
و فیه ایضاً : تحت (قوله : و أرض مغصوبة أو للغير)(إلى قوله) بنى مسجدا في أرض غصب لا بأس بالصلاة فيه۔اھ (318/1)۔