السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ،
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سفر میں دو دو (ظہر کے ساتھ عصر، مغرب کے ساتھ عشاء)کر کے اکھٹی نمازیں پڑھ سکتے ہیں؟میں چند دن پہلے ایک سفر میں تھا تو میرے ساتھ چند ساتھی دو،دو نمازیں اکھٹی ادا کر رہے تھے میں نے چونکہ یہ عمل پہلی دفعہ دیکھ رہا تھا تو مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی جیسے ابھی مغرب کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی ہی تھی تو ساتھ ہی عشاء کی نماز بھی اپنی جماعت کروا کر پڑھ لی گئی،حالانکہ سواری اپنی تھی اور مجبوری بھی نہ تھی ، آپ سے عاجزانہ درخواست ہے کہ میری اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں.والسلام
واضح ہو کہ قرآن وسنت میں نمازوں کے اوقات متعین ہیں، اور ان ہی اوقات میں نمازوں کی ادائیگی کا اہتمام کرنا شرعاًلازم اور ضروری ہے، ان میں کسی قسم کی تقدیم وتاخیر کرنا شرعاجائز نہیں، البتہ ایامِ حج میں دومقامات (عرفات اور مزدلفہ) میں مخصوص شرائط کے ساتھ دونمازوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کا حکم ہے،اس کے علاوہ دیگر اوقات اور حالات میں ایک وقت میں دونمازوں کو جمع کرکے پڑھنا عندالاحناف شرعاًدرست نہیں۔
جہاں تک احادیثِ مبارکہ میں سفر یا بارش وغیرہ کے مواقع پر دو نمازوں کو جمع کرنے کے تذکرے کا تعلق ہےتو اس طرح دونمازوں کو صورتاً ایک وقت مٰیں جمع کرنا مراد ہے حقیقتاً نہیں۔
جس کی تفصیل یہ ہے کہ مثلاً ظہر کی نمازاتنی دیر سے پڑھی جائے کہ اس کاوقت ختم ہونے لگے، جیسے ہی ظہر کی نماز سے فراغت ہو،کچھ دیر انتظار کرے،پھرجب عصر کا وقت شروع ہوجائے تو عصر کی نماز بھی پڑھ لی جائے،اسی طرح مغرب اور عشاء میں کیا جائے،اس صورت میں ظہر اور عصر کی نماز اپنے وقت (ظہر کی نماز آخر وقت میں اور عصر پہلے وقت) میں ہی پڑھی جائےگی لیکن بظاہر ایسا محسوس ہوگا کہ دونوں ایک ہی ساتھ پڑھی گئیں۔
فی صحیح البخاري:’’مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّٰى صَلَاةً بِغَيْرِ (لِغَيْرِ) مِيْقَاتِهَا إِلَّا صَلَاتَيْنِ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَصَلَّى الْفَجْرَ قَبْلَ مِيْقَاتِهَا.‘‘( باب من یصلي الفجر بجمع:۱٦۸۲)۔
وفی ھامشہ:'' المراد بقوله: قبل ميقاتها: هو قبل وقتها المعتاد، لاقبل طلوع الفجر؛ لأن ذلك ليس بجائز بإجماع المسلمين''۔( رقم الحاشية:7، 1 / 228 ط:هنديه)۔
وفی سنن الترمذی:’’مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَقَدْ اَتٰى بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْكَبَائِرِ.‘‘(باب ماجاء في الجمع بین الصلاتین في الحضر:۱۸۸)۔