کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل مساجد میں معذورین کے لیے جو مخصوص کرسیاں رکھی گئیں ہیں جس میں سجدہ کرنے کے لیے سینے کے سامنے ایک اُبھرا ہوا تخت بھی ہوتا ہے، آیا اس کرسی پر نماز پڑھنا اس حال میں کہ اس اُبھرے ہوئے تختے پر مصلی سجدہ کر رہا ہو، جائز ہے یا نہیں؟ حالانکہ فقہ کی کتب میں لکھا ہے کہ سجدہ کرنے کے لۓ چہرہ کی طرف کسی چیز کا اُٹھانا صحیح نہیں۔
اگر کوئی شخص معذور ہو کہ رکوع تو صحیح حالت میں کر سکتا ہو، مگر سجدہ کرنے پر قادر نہ ہویا قادر ہو، مگر بوجۂ بیماری اور ضعف سخت تکلیف یا مرض کے بڑھ جانے کا اندیشۂ شدید ہو اور مذکور کرسی کی ٹیبل پر سجدہ کرنے سے ایسی مشقت نہ ہوتی ہو تو ایسے مریض کے لۓ مذکور طریقہ کے مطابق نماز بلاشبہ جائز اور درست ہے ،جبکہ یہ شرعاً حقیقی سجدہ نہیں ہوگا بلکہ اشارۂ سجدہ ہی شمار ہوگا ۔
کتبِ فقہ میں جو ممانعت آئی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی چیز اُٹھا کر پیشانی پر لگائی جائے اور اسے سجدہ کے قائم مقام سمجھا جائے۔
فی الفتاوى الهندية: فإن كانت الوسادة موضوعة على الأرض وكان يسجد عليها جازت صلاته، كذا في الخلاصة اھ (1/ 136)۔
وفی الفتح: ولو وضع بین یدیه وسائد فالصق جبهته علیها ووجد ادنی الانحناء جاز عن ذلك الإیماء وإلا فلا اھ (۱/۴۸۵)۔
وفی الهدایة: ولا یرفع إلی وجهه شیئ یسجد علیه لقوله علیه السلام ان قدرت ان تسجد علی الأرض فاسجد والا فاومِ برأسك اھ (۱/۱۶۱)۔