کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کچھ مخیر حضرات نے زکوٰۃ کے مد میں غریب لوگوں کے لۓ روٹیوں، اور اچار کے پیکٹ بنا کر تقسیم کرنے اور غریبوں تک پہنچانے کے لۓ ہمارے حوالے کۓ ہیں، جس کی تقسیم اور پہنچانے کے لۓ ہمارے ہر مہینے تیس، چالیس ہزار تک کرایہ بھی لگ جاتا ہے، اور ان حضرات کی طرف سے کرائے کی کوئی ترتیب نہیں، تو کیا جن لوگوں کو ہم تین یا تین پیکٹ سے زائد روٹیاں دیتے ہیں، ان سے کرایہ کے مد میں دس، بیس روپے وصولی کر سکتے ہیں؟ کہ ہم ان کو بتائیں کہ یہ روٹیاں مفت میں ، لیکن ڈیلوری خرچہ کے مد میں یہ دس، بیس روپیہ وصول کۓ جاتے ہیں، کیا اس وصولی سے ان حضرات کے زکوٰۃ میں کوئی خرابی آئیگی؟جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں۔
واضح ہو کہ زکوٰۃ کی رقم یا خوردونوش کی اشیاء مستحق اور غریب تک پہنچانا مخیر حضرات کی ذمہ داری ہے،جس پر وہ کسی قسم کے عوض اور اجرت کا مطالبہ نہیں کر سکتے، اسی طرح اگر کوئی شخص زکوٰۃ وغیرہ از خود مستحقین تک پہنچانے کے بجائے کسی وکیل کے توسط سے یہ کام کرے تو اس وکیل کے لۓ بھی اپنے مؤکل کی طرف سے غریب اور مستحق افراد تک زکوٰۃ پہنچانے پر مستحقین سے اجرت وصول کرنا درست نہیں، لہٰذا سائل کو مستحقین سے ڈیلیوری کے اخراجات کے مطالبہ کا حق نہیں، البتہ مستحقین اپنی دلی رضا مندی وخوشی سے سائل کو ڈلیوری کے اخراجات کی مد میں الگ سے کچھ رقم دینا چاہیں یا سائل مخیر حضرات سے اس عمل کو سر انجام دینے پر معاوضہ وصول کرنا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے اور ایسا کرنے سے زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ پر کوئی اثر نہ ہوگا، بلکہ ان کی زکوٰۃ درست ادا ہوگی۔
فی الفتاوى الهندية: إذا وكل في أداء الزكاة أجزأته النية عند الدفع إلى الوكيل فإن لم ينو عند التوكيل ونوى عند دفع الوكيل جاز كذا في الجوهرة النيرة اھ(1/ 171)۔
وفی الدر المختار: ولا يخرج عن العهدة بالعزل بل بالأداء للفقراء اھ (2/ 270)۔
وفی درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: (إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن يطالب بالأجرة) يستحق في الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى. وفي الفاسدة أجر المثل انظر المادة. يتفرع على هذه المسائل الآتية: أولا - لو وكل أهل قرية معلومون وكيلا لأجل تسوية أمور قريتهم ومصالحها في مقابل حنطة وشعير معلومي مقدار الثمن وقام الوكيل بتسوية المصالح المذكورة؛ أخذ الوكيل الأجرة المسمى من الأهالي (التنقيح) ثانيا - لو وكل أحد وكيلا بقبض وديعته التي عند فلان وشرط في مقابلها أجرة جاز، ويستحق الوكيل الأجرة إذا قبض الوديعة اھ (3/ 574)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0