السلام علیکم مفتی صاحب! کیا نماز میں پینٹ کو فولڈ کرنا جائز ہے ؟ کچھ علماء کہتے ہیں کہ نماز کے دوران اپنے کپڑوں سے نہ کھیلو ،مطلب یہ ہے کہ کپڑوں کو نہ موڑو ،کچھ کہتے ہیں کہ نماز سے پہلے بھی پینٹ کو فولڈ کرنا منع ہے، اس مسئلہ کا جواب ذکر فرما دیں۔
شلوار یا پینٹ کے پائنچے ٹخنوں سے نیچے رکھنا سخت گناہ کی بات ہے اور جو شخص پائنچے ٹخنوں سے نیچے لٹکائے، احادیثِ مبارکہ میں ایسے شخص کے لۓ سخت وعید یں بیان فرمائی گئی ہیں اور نماز میں اس کی قباحت اور زیادہ ہو جاتی ہے ،لہٰذا مردوں کو ہمہ وقت اپنی شلوار یا پینٹ وغیرہ اپنے ٹخنوں سے اُوپر رکھنی چاہیۓ اور کسی کی شلوار یا پینٹ لمبی ہو تو اس کو اوپر کی طرف موڑ کرپائنچے اُوپر چڑھالینے چاہیۓ اور نماز سے پہلے ہی کرنا چاہیۓ ، دورانِ نماز موڑنے سے عملِ کثیر کی بناء پر نماز فاسد ہوجاۓ گی ۔
فی مشكاة المصابيح: وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما أسفل من الكعبين من الإزار في النار» . رواه البخاري اھ (2/ 1241)۔
وفي مرقاة المفاتيح: وأما القدر المستحب فيما ينزل إليه طرف القميص والإزار فنصف الساقين، والجائز بلا كراهة ما تحته إلى الكعبين اھ (7/ 2767)۔
وفى حاشية ابن عابدين: ويكره للرجال السراويل التي تقع على ظهر القدمين اھ (6/ 351)۔