کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری کمپنی میں عصرکی نماز جون کے مہینے میں پانچ بجے ادا کی جاتی ہے، جبکہ آج کل عصر کا وقت تقریباً ۵:۱۶ پر داخل ہوتا ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ ملازمین اپنے علاقوں میں عصر کی نماز کے لۓ نہیں پہنچ سکتے، یا تو عصر کی نماز کا وقت داخل ہونے سے پہلے ادا کر لیتے ہیں اور یہ انتظامیہ کی طرف سے بھی حکم ہے اور وہ کہیں سے فتویٰ بھی لاۓ ہیں کہ اس طرح عصر کی نماز ادا ہو جاتی ہے، اس فتویٰ کو نہ کسی فرد کو دکھایا گیا ہے اور نہ ہی جائے نماز کی جگہ آویزاں کیا گیا ہے تو کیا ایسی صورت میں عصر کی نماز ادا ہو جاتی ہے؟ نیز جو لوگ پانچ بجے عصر ادا کرتے ہیں وہ فقہ حنفی کے مقلد بھی ہیں۔
۲۔ اگر ادا ہو جاتی ہے تو کیا وہ لوگ جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں جو لوگ اپنی نماز اپنے علاقوں میں جماعت کے ساتھ پا سکتے ہیں یا جماعت کے نکل جانے کے خوف سے ؟
۳۔ اگر نماز ادا ہو جاتی ہے تو کیا اور ٹائم لگانے والے حضرات بھی اس جماعت کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں یا وہ اپنے اپنے وقت پر نماز ادا کریں؟
۴۔ اور کچھ لوگ پانچ بج کر بیس (۵:۲۰) منٹ پر اذان دیتے ہیں اور ۵:۲۵ پر نماز ادا کرتے ہیں، تو کیا ایک ہی جائے نماز پر دو مرتبہ اذان وجماعت جائز ہے؟ ( جائے نماز سے مراد وہ جگہ جو نماز کے لۓ مخصوص ہے، یعنی مسجد نہیں، بلکہ نمازیوں کی سہولت کے لۓ وہ جگہ مقرر کی گئی ہے جو باقاعدہ مسجد کے حکم میں شامل نہیں اگر وہ کمپنی کو ضرورت پڑ جائے تو یہ جائےنماز دوسری جگہ منتقل ہو جاتا ہے) براہِ مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں مسئلہ کی وضاحت فرما کر ہمارے دلوں کا تردد دور فرمائیں۔
عند الاحناف مفتی ٰبہ قول کے مطابق نمازِ عصر کا وقت مثلین سے شروع ہوتا ہے جس کا وقت گھنٹوں کے اعتبار سے مروجہ معتمد نقشوں میں موجود ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکور ملازمین کو چاہیۓ کہ محض پندرہ بیس منٹ تاخیر کی وجہ سے ایک فریضۂ شرعی کو اپنے وقتِ مقررہ سے پہلے ادا کرنے سے احتراز کریں، مگر یہ کہ مذکور کمپنی اگر ایسے مقام پر واقع ہے کہ وہاں سے واپسی کے لۓ مقررہ گاڑی کے علاوہ کوئی اور معقول انتظام نہ ہو اور اس تاخیر کی وجہ سے واقعۃً شدید مشقت کا سامناکرنا پڑتا ہو تو اس صورت میں بامرِ مجبوری صاحبین یعنی امام ابویوسفؒ اور امام محمدؒ نیز ائمۂ ثلاثہ کے قول پر عمل کرتے ہوئے سوال میں مذکور وقت کے مطابق بھی نماز پڑھنے کی گنجائش ہے ۔
تاہم جن ملازمین کو مذکور عذر لاحق نہ ہو انہیں چاہیۓ کہ وہ مثلین پر یعنی بیس منٹ کی تاخیر سے دفتر کے اوقات کے مطابق نماز پڑھنے کا اہتمام کریں ، خواہ دوسری جماعت ہی کرانی پڑ جائے اور پھر چونکہ مذکور جگہ مستقل طور پر مسجدِ شرعی نہیں، بلکہ محض جائے نماز ہے تو اس میں جماعتِ ثانی کی وجہ سے کوئی کراہت بھی نہ ہوگی ۔
فی الدر المختار: (ووقت الظهر من زواله) أي ميل ذكاء عن كبد السماء (إلى بلوغ الظل مثليه) (إلی قوله) وعليه عمل الناس اليوم وبه يفتى اھ(1/ 359)۔
وفی حاشية ابن عابدين: تحت (قوله: وعليه عمل الناس اليوم) أي في كثير من البلاد، والأحسن ما في السراج عن شيخ الإسلام أن الاحتياط أن لا يؤخر الظهر إلى المثل، وأن لا يصلي العصر حتى يبلغ المثلين ليكون مؤديا للصلاتين في وقتهما بالإجماع، وانظر هل إذا لزم من تأخيره العصر إلى المثلين فوت الجماعة يكون الأولى التأخير أم لا، والظاهر الأول بل يلزم لمن اعتقد رجحان قول الإمام تأمل اھ (1/ 359)۔
وفی الفتاوى الهندية: ووقت الظهر من الزوال إلى بلوغ الظل مثليه سوى الفيء. كذا في الكافي وهو الصحيح. هكذا في محيط السرخسي (إلی قوله) ووقت العصر من صيرورة الظل مثليه غير فيء الزوال إلى غروب الشمس. هكذا في شرح المجمع اھ (1/ 51)۔
وفی الدر المختار: ويكره تكرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق أو مسجد لا إمام له ولا مؤذن اھ(1/ 552)۔
وفی حاشية ابن عابدين: كما في مسجد ليس له إمام ولا مؤذن ويصلي الناس فيه فوجا فوجا، فإن الأفضل أن يصلي كل فريق بأذان وإقامة على حدة اھ(1/ 553)۔