کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد صاحب کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی ہے ،آج سے پہلے بیٹھ کر قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتے تھے ، لیکن اب بالکل صاحبِ فراش ہو گئے ہیں ، تو کیا اس صورت میں وہ بغیر قبلہ رخ ہوئے اشارہ سے نماز پڑھ سکتے ہیں ؟ جواب مرحمت فرما کر ممنون ہوں گا۔
نوٹ: جواب شافعی المسلک میں جاری فرمائیں۔
واضح ہوکہ شافعی مسلک میں بھی نماز میں استقبالِ قبلہ شرط ہے، صورتِ مسئولہ میں سائل کو چاہیۓ کہ اپنے والد صاحب کے بستر کو قبلہ رخ کر دے ،تاکہ وہ اشارے سے نماز پڑھ سکیں ۔
في تحفة المحتاج: أما العاجز عن الاستقبال لنحو مرض، أو ربط قال الشارح، أو خوف من نزوله عن دابته على نحو نفسه، أو ماله، أو انقطاعا عن رفقته إن استوحش به فيصلي على حسب حاله، أو يعيد مع صحة صلاته لندرة عذره اھ(1/ 485)۔
وفی مغني المحتاج: أما العاجز عنه كمريض لا يجد من يوجهه إليها ومربوط على خشبة فيصلي على حاله ويعيد وجوبا اھ(1/ 331)۔