احکام نماز

جسم پر کندہ کاری کروائے ہوئے شخص کی نماز کا حکم

فتوی نمبر :
65418
| تاریخ :
2008-07-21
عبادات / نماز / احکام نماز

جسم پر کندہ کاری کروائے ہوئے شخص کی نماز کا حکم

کیا جسم پر کندہ کاری کروانا جائز ہے؟ کیا اس کے ساتھ مسجد میں داخل ہونا جائز ہے؟ کیا وہ نماز ادا کر سکتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جسم پر کندہ کاری کرنا اگرچہ شرعاً ناجائز اور حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے، مگر ایسے شخص کا نماز پڑھنا اور مسجد میں داخل ہونا بلاشبہ جائز اور درست ہے، پھر اس کندہ کاری میں غلط قسم کے کلمات یا کوئی تصویر وغیرہ ہو تو سرجری وغیرہ کے ذریعہ اسے ختم کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہیۓ۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الفقه الإسلامي وأدلته: الوشم حرام أيضاً: وهو أن تغرز إبرة أو نحوها في الجلد على ظهر الكف والمعصم أو الوجه أو الشفة وغير ذلك، حتى يسيل الدم، ثم يحشى محل الغرز بكحل ونحوه، فيخضر اھ (4/ 2682)۔
وفیه أیضاً: ودليل تحريم هذه الثلاثة (الوشم والنمص والتفليج): الحديث المتفق عليه بين أحمد والشيخين عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: «لعن الله الواشمات والمستوشمات، والمتنمصات، والمتفلجات للحسن، المغيِّرات خلق الله تعالى» اھ (4/ 2683)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 65418کی تصدیق کریں
0     549
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات