احکام نماز

وتر میں دعاءِ قنوت کی جگہ دیگر ماثور اور منقول دعائیں پڑھنا

فتوی نمبر :
65414
| تاریخ :
2008-06-23
عبادات / نماز / احکام نماز

وتر میں دعاءِ قنوت کی جگہ دیگر ماثور اور منقول دعائیں پڑھنا

مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ
میرا سوال یہ ہے کہ اپنے گھر میں بچوں کی نماز پڑھنے کی عادت بنانے کی کوشش کرتا ہوں، بعض بچے ایسے ہیں جنہیں دعاءِ قنوت یاد نہیں ہوتی تو کیا میں وتر میں کوئی اور دعا یا سورت پڑھنے کو کہہ دوں جو ان کو یاد ہو یا کوئی اور عمل کیا جا سکتا ہے جو دعاءِ قنوت کے قائم مقام ہو جائے؟والسلام

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگرچہ اس قسم کی صورتِ حال میں دعاءِ قنوت کی جگہ دوسری دعاءِ ماثورہ وغیرہ بھی پڑھ سکتے ہیں، مگر اُسے معمول بنا لینے سے احتراز اور دعاءِ قنوت کو ہی یاد کرنا چاہیۓ۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار: (وقنت فيه) ويسن الدعاء المشهور اھ(2/ 6)وفی حاشية ابن عابدين: (قوله ويسن الدعاء المشهور) قدمنا في بحث الواجبات التصريح بذلك عن النهر. وذكر في البحر عن الكرخي أن القنوت ليس فيه دعاء مؤقت (إلی قوله) ومن لا يحسن القنوت يقول ﴿ربنا آتنا في الدنيا حسنة﴾ [البقرة: 201] الآية. وقال أبو الليث يقول: اللهم اغفر لي يكررها ثلاثا، وقيل يقول: يا رب ثلاثا، ذكره في الذخيرة. اهـ (2/ 7)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 65414کی تصدیق کریں
0     1005
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات