کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنے زخم سے خون صاف کیا اور وہ ٹشوپیپر جیب میں رکھ کر نماز پڑھالی، بعد میں دیکھا تو وہ میری جیب میں تھا ،کیا میری نماز درست ہو گئی یا دوبارہ لوٹانا پڑے گی ؟
ٹشوپیپر پر لگا خون اگر ایک درہم یعنی ہتھیلی کے پھیلاؤ سے زیادہ تھا تو نماز نہیں ہوئی، اس کا لوٹانا لازم ہے، اور اگر اس مقدار سے کم خون لگا تھا تو ایسی صورت میں نماز درست ادا ہوئی گئی ہے، لوٹانے کی ضرورت نہیں۔
ففي البحر: ولوصلی وفي كمه قارورة مضمومة فیها بول لم تجز صلاته لأنه فی غير معدنه ومکانه (إلی قوله)والشیئ مادام فی معدنه لا یعطی له حکم نجاسة اھ (۱/۲۶۷)۔
وفي حلبی كبير: (ولوصلی ومعه قارورة فیها بول لا تجوز) صلاته لأنها نجاسة فی غیر معدنها اھ (ص: ۱۹۷)۔
وفی حاشیة الطحطاوي: (وعفى قدر الدرهم) وزنا فی المتجسدة وھو عشرون قیراطا مساحة فی المائعة وھو قدر مقعر الکف داخل مما صل الأصابع کما وفقه الھندوانی وھو الصحیح فذلک عفو (من) النجاسة (المغلظة) فلا یعفی عنها إذا زادت علی الدرھم مع القدرة علی الإزالة اھ (ص: ۱۵۷)۔