کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اور مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک قبرستان ہے، جس میں قبروں کی نوعیت یہ ہے کہ قبروں کی تعمیر کے لۓ زمین کو ایک فٹ سے زیادہ نہیں کھودا جا تا، بلکہ زمین کے اوپر تین سے چار فٹ تک دیوار میں تعمیر کر کے مردے کو اس میں رکھ دیا جا تا ہے اور اس کے اوپر سلپ رکھ کر قبر کو بند کر دیا جا تا ہے ، حال یہ ہے کہ اس قبرستان میں بارش کے پانی کے جمع ہونے کا مسئلہ بھی در پیش نہیں، قبرستان کی زمین باہر روڈ سے کافی اُونچائی پر ہے ، سوال یہ ہے کہ کیا ایسی قبر بنانے کی شریعت میں اجازت ہے؟ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں اس کا جواب مرحمت فرمائیں۔
نوٹ : سائل سے فون پر بات کرنے سے پتہ چلا کہ قبر کو ایک فٹ سے زیادہ اس لۓ نہیں کھودتے کہ ان کا کہنا ہے کہ یہاں پتھر ہیں ، ہم نے کہا پتھر کا توڑ تو نکالا جاسکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ اس پر لاکھوں کا خرچہ آئے گا، جبکہ انہوں نے وہاں آٹھ فٹ کی ٹینکی بھی بنائی ہے۔
واضح ہو کہ شوافع رحمہم اللہ کے نزدیک عام حالات میں جب کوئی عذر در پیش نہ ہو، دفن کے لۓ کم سے کم اتنا گہر اگھڑ اکھودنا ضروری ہے جس میں سے میت کی بُو ظاہر نہ ہو اور درندوں سے اس کی حفاظت ہو سکے، اور قبر کھودنے کا اکمل درجہ یہ ہے کہ قبر اتنی کشادہ اور گہری کھو دی جائے کہ اس میں ایک معتدل قدوقامت کا آدمی اپنے دونوں ہاتھ اوپر کی جانب اٹھا کر کھڑا ہو سکے ، چنانچہ قبر کے بارے میں حدیث شریف میں آتا ہے کہ ’’ أحفروا وأوسعوا واعمقوا‘‘ رواہ الترمذی ترجمہ : آپ ﷺ نے فرمایا کہ قبر وسیع اور گہری کھو دو ، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ میں مذکور قبرستان کی تیار قبروں کی جو نوعیت بتائی گئی ہے یہ اگر عام حالات میں ہو تو کئی خرابیوں پر مشتمل ہے :
اولاً تو ایک فٹ کھودنے سے دفن کی شرعی حد جس کی رعایت واجب ہے متحقق نہیں ہوتی ۔
ثا نیاً قبر پر تین چار فٹ دیوار کھڑی کر نا قبر پر تعمیر کے زمرہ میں آتا ہے جو کہ احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ممنوع و مکر وہ ہے ۔
لہٰذا انتظامیہ ومتعلقین کو چاہیۓ کہ مذ کور طریقے سے مردے دفنانے سے اجتناب کر کے شرعی تقاضوں کے مطابق اس کا اہتمام کریں، تاہم اگر کوئی واقعی عذر ہو، جیسا کہ اور کوئی دوسرا متبادل آسانی سے میسر نہ ہو تو بامرِ مجبوری مذکور طریقہ کار کی بھی گنجائش ہے ۔
في مغني المحتاج: (فصل) في دفن الميت وما يتعلق به (أقل القبر حفرة تمنع) بعد ردمها (الرائحة) أن تظهر منه فتؤذي الحي (و) تمنع (السبع) عن نبش تلك الحفرة لأكل الميت؛ لأن الحكمة في وجوب الدفن عدم انتهاك حرمته بانتشار رائحته واستقذار جيفته، وأكل السباع له وبهذا يندفع ذلك قال الرافعي: والغرض من ذكرهما إن كانا متلازمين بيان فائدة الدفن، وإلا فبيان وجوب رعايتهما فلا يكفي أحدهما، والظاهر كما قال شيخنا أنهما ليسا بمتلازمين كالفساقي التي لا تكتم رائحة مع منعها الوحش فلا يكفي الدفن فيها، (إلی قوله) وقال بعض شراح هذا الكتاب: إنه لا يكفي الدفن فيما يصنع الآن ببلاد مصر والشام وغيرهما من عقد أزج واسع أو مقتصد شبه بيت لمخالفته الخبر وإجماع السلف، وحقيقته بيت تحت الأرض فهو كوضعه في غار ونحوه ويسد بابه اهـ. وهذا ظاهر؛ لأنه ليس بدفن كما أشار إلى ذلك ابن الصلاح والأذرعي وغيرهما، واحترز بالحفر عما إذا وضع الميت على وجه الأرض ووضع عليه أحجار كثيرة أو تراب أو نحو ذلك مما يكتم رائحته ويحرسه عن أكل السباع، فلا يكفي ذلك إلا إن تعذر الحفر؛ لأنه ليس بدفن (ويندب أن يوسع) بأن يزاد في طوله وعرضه (ويعمق) بأن يزاد في نزوله لقوله - صلى الله عليه وسلم - في قتلى أحد «احفروا وأوسعوا وأعمقوا» رواه الترمذي وقال: حسن صحيح اھ (2/ 37)۔
وفی نهاية المحتاج: (قوله: لتعذر الحفر) الظاهر من تعذر الحفر صلابة الأرض ككون البناء على جبل، وينبغي أن يلحق بذلك ما لو كانت الأرض خوارة سريعة الانهيار أو يحصل بها ماء لقربها من البحر ولو لم يكن الماء موجودا حال الدفن لكن جرت العادة بوجوده بعد؛ لأن في وصول الماء إليه هتكا لحرمة الميت اھ(7/ 454)۔
وفي مصنف ابن أبي شيبة: عن جابر، قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يجصص القبر، وأن يقعد عليه، وأن يبنى عليه» اھ (3/ 25)۔