احکام نماز

فجر کی نماز میں رکوع سے پہلےدعاءِ قنوت پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
65348
| تاریخ :
2016-05-25
عبادات / نماز / احکام نماز

فجر کی نماز میں رکوع سے پہلےدعاءِ قنوت پڑھنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا تعلق فقہ حنفی سے ہے اور میں متحدہ عرب امارات میں امام ہوں، اب یہاں کی گورنمنٹ کی طرف سے ہمیں حکم جاری ہوا ہے کہ نماز میں دونوں ہاتھوں کو ناف پر رکھنے کی بجائے نیچے چھوڑے جائیں، جیسا کہ امام مالک رحمہ اللہ کا مسلک ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ صبح کی نماز میں رکوع سے پہلے کچھ دیر کے لۓ امام خاموش رہے تا کہ مقتدی دعاءِ قنوت پڑھ سکیں، تو ہمارے لۓ اس حکم کی تعمیل کیسی ہے، شرعاً جائز ہے کہ نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

عندالاحناف اگر چہ قیام کی حالت میں دونوں ہاتھوں کو ناف کے نیچے باندھنا اور فجر کی نماز میں قرأت ختم کرنے کے فوراً بعد رکوع میں جانا لازم ہے، تاہم سائل جب متحدہ عرب امارات میں بحیثیتِ امام مقیم ہے تو سوال میں مذکور مسائل چونکہ مجتہد فیہا اورائمہ متبوعین کے درمیان اختلافی ہیں ، لہٰذا حاکمِ وقت کی طرف سے یہ حکم اگر اس طور پرلز وم کے درجہ کا ہو کہ خلاف کی صورت میں سرزنش کا بھی اندیشہ اور بلا تفریق تمام مسالک کے لۓ واجب التعمیل ہوتو اس صورت میں اس پرعمل کرنے کی گنجائش ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

في حاشية ابن عابدين: (قوله يعني في المجتهد فيه) المراد بالمجتهد فيه ما كان مبنيا على دليل معتبر شرعا بحيث يسوغ للمجتهد بسببه مخالفة غيره، حتى لو كان مما يدخل تحت الحكم وحكم به حاكم يراه نفذ حكمه، وإذا رفع حكمه إلى حاكم آخر لا يراه وجب عليه إمضاؤه اھ(1/ 472)۔
وفي الدر المختار: وأما الأمير فمتىٰ صادف فصلاً مجتهداً فيه نفذ أمره اھ (٥ / ٤٠٩ )۔
وفي حاشية ابن عابدين: وقد تقرر أن كل مجتهد فيه اذا حكم به حاكم يراه نفذ حكمه وصار مجمعاًعليه فليس للحاكم غيره نقضه اھ(4 / ٣٤٣ )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 65348کی تصدیق کریں
0     618
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات