مفتی صاحب! ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے کہ گزشتہ شام میں جہاز میں سوار ہوا تو مغرب کی نماز میں ابھی ۱۰ سے ۱۳ منٹ رہتے تھے اور میں نے ارادہ کیا کہ وقت ہو جائے تو نماز ادا کر تا ہوں ،مگر ۱۰ سے ۱۳ منٹ کے بعد جب جہاز فضا میں بلند ہوا تو سورج کی روشنی بہت واضح تھی اور یہ منظر تقریباًاگلے ۱۵ سے ۲۰ منٹ رہا، مگر میں نے نماز مغرب ادا کر لی اور گھر میں پہنچ کر دوبارہ ادا کی ۔
سوال نمبر ۱ : کیا نمازِ مغرب جہاز میں ٹیک آف کے وقت جو مقامی وقت تھا، اس کے مطابق پڑھنی چاہیۓ یا پھر جب سورج کی روشنی جہاز میں آنا بند ہو جائے تو پھر پڑھنی چاہیۓ؟
سوال نمبر ۲۔ کیا گاڑی یا جہاز میں پڑھی جانے والی نماز گھر پر پہنچ کر دوبارہ لوٹانی پڑے گی ؟ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
1. سائل کو جب جہاز میں سورج نظر آیا تو اسے غروب ہونے تک انتظار کرنا چاہیۓ تھا ، چنانچہ اس نے سورج غروب ہونے سے قبل جو نماز پڑھ لی ہے تو گھر جا کر اس نماز کالو ٹا نالازم ہے۔
2. جہاز میں حالتِ پرواز میں اور ریل گاڑی میں دورانِ سفر بھی نماز ہو جاتی ہے ، ایسی نماز کو لوٹانے کی ضرورت نہیں ، جبکہ عام گاڑی، بس میں اگر قیام اور استقبالِ قبلہ ممکن نہ ہو تو اشارہ سے نماز پڑھنے کے بعد گاڑی سے اُتر کر نماز پڑھنالازم ہو گا ۔
قى الدر المختار: و وقت المغرب منه الى غروب الشفق اھ (1 / 360)۔
وفيه ايضاً: فلو غربت ثم عادت هل يعود الوقت، الظاهر نعم - وقال العلامة الشامي رحمه الله تحته: بحث لصاحب النهر حيث قال: ذكر الشافعية ان الوقت يعود ( الى قوله ) قلت: على أن الشيخ إسماعيل رد ما بحثه في النهر تبعا للشافعية، بأن صلاة العصر بغيبوبة الشفق تصير قضاء ورجوعها لا يعيدها أداء، وما في الحديث خصوصية لعلي كما يعطيه قوله - عليه الصلاة والسلام - «إنه كان في طاعتك وطاعة رسولك» . اهـ. قلت: ويلزم على الأول بطلان صوم من أفطر قبل ردها وبطلان صلاته المغرب لو سلمنا عود الوقت بعودها للكل، والله تعالى أعلم اھ (1/ 361)۔
وفى البدائع: و ان كانت سائرة ، فان امكنه الخروج الى الشط يستحب له الخروج اليه ، لانه يخاف دوران الراس في السفينة فيحتاج الى القعود و هو أمن عن الدوران في الشط . فان لم يخرج وصلى فيها قائما بركوع و سجود اجزأہ اھ (1 / 109 ) ۔
وفي المنهاج: واما الصلاة في السيارات البرية من القطارات وغيرها فعند الوقوف حكمها كحكم الصلاة على الارض و عند السير حكمها كحكم الصلاة في السفينة السائرة فمن صلى فيها قائما بركوع و سجود اجزأت. ومن صلى فيها بالايماء للزحمة وضيق المحل فالظاهر من النظائر ان يعيد الصلاة . ( منهاج السنن شرح جامع السنن اھ (2/ 234)۔