کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص فوت ہو جائے تو اس کی قضا نمازوں اور روزوں کا فدیہ کیسے ادا کیا جائے گا ، جبکہ اس کی تعداد معلوم ہو یا صرف اندازہ ہو ؟ اور اس کی ادا ئیگی کس کے ذمہ ہو گی؟
مرحوم نے اپنی فوت شدہ نمازوں اور روزوں کے فدیہ کے متعلق اگر وصیت کی ہو تو مرحوم کے ورثاء پر کفن دفن اور قرضوں کی ادئیگی کے بعد بقیہ مال کے ایک تہائی ( ۳/۱) کی حد تک ان کی فوت شدہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کر نالازم ہے، لیکن اگر مرحوم نے اپنی فوت شدہ نمازوں اور روزوں کے فدیہ کے متعلق کوئی وصیت نہ کی ہو تو ورثہ پر ان کی فوت شدہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کر نالازم تو نہیں، البتہ اگر کوئی ایک وارث اپنے مال میں سے یاسب عاقل بالغ ور ثاء مشتر کہ ترکہ سے اپنی مرضی و خوشی سے مرحوم کی قضاء نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کرنا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے، اور وتر سمیت ہر نماز اور روزے کا فدیہ ایک صدقہ الفطر ( پونے دوسیر گندم یا اس کی قیمت کے برابر) ادا کر نالازم ہے۔
فی الدر المختار: (ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة اھ (2/ 72)۔
وفي رد المحتار تحت: (قوله يعطى) بالبناء للمجهول: أي يعطي عنه وليه: أي من له ولاية التصرف في ماله بوصاية أو وراثة فيلزمه ذلك من الثلث إن أوصى، وإلا فلا يلزم الولي ذلك لأنها عبادة فلا بد فيها من الاختيار، فإذا لم يوص فات الشرط فيسقط في حق أحكام الدنيا للتعذر، بخلاف حق العباد فإن الواجب فيه وصوله إلى مستحقه لا غير اھ (2/ 72) ۔