احکام نماز

کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھتے وقت قیام کا حکم

فتوی نمبر :
65339
| تاریخ :
2020-07-21
عبادات / نماز / احکام نماز

کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھتے وقت قیام کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ گھٹنوں میں تکلیف کی وجہ سے زمین پر بیٹھنا مشکل ہے، جبکہ سیدھا کھڑا ہونا مشکل نہیں ہے یعنی قیام کر سکتا ہوں ، کیا کر سی پر بیٹھ کر نماز پڑھتے وقت قیام کر سکتا ہوں ؟ کیونکہ اس سے مجھے سکون ملتا ہے، لیکن سجدہ کے وقت کرسی پر بیٹھ جاتا ہوں، کیونکہ گھٹنوں کی تکلیف کی وجہ سے سجدہ زمین پر نہیں کر سکتا قرآن اور سنت کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جو شخص زمین پر سر ٹکا کر سجدہ کرنے سے عاجز ہو، لیکن قیام اور رکوع پر قادر ہو تو اس کو چاہیۓ کہ قراءت با قاعدہ کھڑے ہو کر کرے اور رکوع بھی با قاعدہ کھڑے ہو کر کرے اور اگر رکوع پر قدرت نہ ہو تو رکوع کا اشارہ کھڑے ہو کر بھی کر سکتا ہے ، اور بیٹھ کر بھی اور سجدہ بیٹھ کر اشارے سے کرے اگر بقیہ رکعتیں بھی اسی طرح پڑھ سکتا ہو تو اسی طرح پڑھے، لیکن اگر ایسا شخص پوری نماز ہی بیٹھ کر پڑھ لے تو یہ بھی جائز ہے، تاہم رکوع اور سجدہ سے معذوری کی صورت میں زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے ، بلا عذر اور مجبوری کے کر سی کا استعمال جائز نہیں ، البتہ عذر اور مجبوری کی صورت میں کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا بھی جائز اور درست ہے ، اور اس صورت میں رکوع اور سجدے کے لۓ اشارہ کرنا بھی جائز ہے ، اور اگر سامنے کرسی کی نشست کے برابر یا اس سے معمولی اونچی چیز پر سر ٹکا کر سجدہ کرے تو یہ بھی جائز ہے ، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

فی در المختار: (من تعذر عليه القيام ) أي كله (لمرض) (الی قوله) (صلی قاعدا) ولو مستندا إلى وسادة أو إنسان فإنه يلزمه ذلك على المختار (كيف شاء) على المذهب لأن المرض أسقط عنه الأركان فالهيئات أولى اھ (2/ 97)۔
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله بل تعذر السجود كاف) نقله في البحر عن البدائع وغيرها. وفي الذخيرة: رجل بحلقه خراج إن سجد سال وهو قادر على الركوع والقيام والقراءة يصلي قاعدا يومئ؛ ولو صلى قائما بركوع وقعد وأومأ بالسجود أجزأه، والأول أفضل لأن القيام والركوع لم يشرعا قربة بنفسهما، بل ليكونا وسيلتين إلى السجود. اهـ. قال في البحر: ولم أر ما إذا تعذر الركوع دون السجود غير واقع اهـ (2/ 97)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 65339کی تصدیق کریں
0     1386
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات