احکام نماز

امام تکبیرات انتقال جہرا کہنابھول جائے

فتوی نمبر :
6508
| تاریخ :
2009-06-20
عبادات / نماز / احکام نماز

امام تکبیرات انتقال جہرا کہنابھول جائے

ہم ظہر اور عصر کی نماز اپنے دفتر میں پڑھتے ہیں، آج ہم جب ظہر کی نماز پڑھ رہے تھے تو پہلی رکعت میں امام جہری تکبیر کہے بغیر رکوع میں چلے گئے، اور رکوع سے واپسی پر بھی ایسا ہی کیا، اس وقت ایک مقتدی نے سبحان اللہ کہا تو امام سمجھ گئے، اور جہری تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں چلے گئے ،اور ا س وقت ہم بشمول امام سات افراد تھے، ان میں سے دو نے چار ، پانچ سیکنڈ کی تاخیر سے امام کی اقتداء کی تھی، جبکہ باقی سب معمول کے طور پر امام کی اقتداء کر چکے تھے، امام نے سجدہ سہو کیا اور نماز مکمل کی۔
کیا یہ نماز درست ہے؟ یا ہمیں اپنی اس نماز کا اعادہ کرنا چاہئیے ؟ براہِ کرم تفصیل سے بتا دیجیے۔ اللہ آپ کو جزائے خیر عنایت فرمائیں!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں جن دو نے بعد میں اقتداء کی، اگر انہوں نے امام کو رکوع میں پا لیا تھا، تو سب کی نماز درست ہوگئی ہے، اعادہ کی ضرورت نہیں اور سجدہ سہو کرنے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی البحر الرائق: کما فی المحیط قید بترك الواجب لانه لا یجب بترك سنة کالثناء والتعوذ والتسمیة وتکبیرات الرکوع والسجود وتسبیحاتھا اھ (۲/ ۹۸)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
کلیم اللہ جان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 6508کی تصدیق کریں
0     729
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات