ا لسلام علیکم
اگر وتر میں دعاءِ قنوت کے آخر میں "نسعے" کی "ع" کی جگہ" ء " پڑھ لےاور آخر میں ملحق کے" ق " کی جگہ" ک " پڑھ لے، تو کیا حکم ہے ؟
ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف غلطی سے پڑھ لیا جائے تو دیکھا جائے گا کہ ان دو حرفوں میں فرق کرنا مشکل اور دشوار ہے یا نہیں، اگر ان دو حرفوں میں فرق کرنا دشوار ہو تو نماز فاسد نہیں ہوگی، لیکن اگر ان دو حرفوں میں کسی مشقت کے بغیر آسانی سے فرق کرسکتا ہو اور فرق نہ کرنے کی وجہ سے معنیٰ میں تغیر فاحش آگیا ہو تو نماز فاسد ہو جائے گی ،لہذا کسی ماہر مجود قاری ،عالم یا مفتی صاحب کو تلاوت اور دعاءِ قنوت سناکر تسلی کرلیں۔
دورانِ نماز قرأت میں کوئی ایسی غلطی سرزد ہوجائے جس سے معنی بالکل بگڑ جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی؟
یونیکوڈ مفسدات نماز 0