ایک گھر میں صرف دو ماں بیٹے ہی رہتے ہیں، جب بھی ماں نماز پڑھنا شروع کرتی ہے، تو اگر بیٹا باہر ہوتا ہے تو آجاتا ہے اور پھردروازہ باہر سے بجاتا ہے، ظاہرہے جب تک ماں سلام نہیں پھیرےگی، تب تک کھول نہیں سکت،ی سلام پھیرنے کے بعد ہی ماں دروازہ کھولتی ہے، اب جب وہ بیٹا اندر آتا ہے، تو لڑائی جھگڑا ہوتاہے، اور بیٹا بہت ناراض ہوتا ہے کہ ،جب بھی میں باہر جاتا ہوں، آپ نے تب ہی نماز پڑھنی ہوتی ہے، اب یہ بات ہے کہ جب ماں نماز پڑھنی شروع کرتی ہے اکثر اوقات ایسا ہی ہوتا ہے کہ بیٹا اسی وقت آجاتا ہے، ماں نے بارہا ٹائم تبدیل کرکے بھی دیکھا ہے ،لیکن یہ محض اتفاق ہی ہے کہ بیٹا اس وقت گھر آتا ہےجب ماں نماز شروع کردیتی ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا اس جھگڑے سے بچنے کے لیے جب بیٹا دروازہ کھٹکھٹائے، توکیا ماں نماز توڑ کر دروازہ کھول سکتی ہے؟ کیا ایسا کرنا جائزہے؟
واضح ہو کہ نماز شروع کرنےکے بعد بلا عذر شرعی اس کو توڑ نا درست نہیں، لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کے لیے محض بیٹے کی ناراضگی سے بچنے کی خاطر دروازہ کھولنا تو شرعاًدرست نہیں، البتہ ماں کو چاہیے کہ بیٹے کے گھر آجانے کی اطلاع پر نماز کو مختصر کردے، تا کہ بیٹے کو دیر تک انتظار کرنے کی وجہ سے کوفت نہ ہو ، اور بیٹے کو بھی چاہیے کہ نماز کی تعظیم اور والدہ کے ادب واحترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے والدہ کی نماز سے فراغت تک انتظاروصبر کرے اور والدہ کےساتھ لڑائی جھگڑےاور ان کےساتھ بےادبی سے پیش آنے سے اجتناب کرے۔
كما في نور الايضاح: يجب قطع الصلاة باستغاثة ملهوف بالمصلى لا بنداء أحد أبويه ويجوز قطعها بسرقة ما يساوى درهما ولو لغيره وخوف ذئب على غنم أو خوف تردى أعمى في بئر ونحوه واذاخافت القابلة موت الولد والا فلا باس بتأخيرها الصلاة وتقبل على الولد وكذا المسافر اذا خاف من اللصوص أو قطاع الطريق جاز له تأخير الوقتية اھ(59).