ایک عورت نے 2009 میں اپنی بالغ بیٹی اور شوہر کے ساتھ حج کیا اور اس حج میں حج سے پہلے نفلی طواف کے ساتھ طوافِ زیارت کی سعی کی نیت سے سعی کی، اور حج کے طوافِ زیارت کے بعد سعی نہیں کی ، پھر حج کے بعد مسجد عائشہ سے احرام باندھ کر عمرہ کیا، کیا حج ہو گیا ؟
واضح ہو کہ افضل اور بہتر یہی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد سعی کی جائے ، لیکن اگر کسی نے طوافِ قدوم کے بعد سعی کرلی تو اب طوافِ زیارت کے بعد سعی کرنے کی ضرورت نہیں اور شرعاً اسمیں کوئی حرج بھی نہیں ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ اور اس کے اہلِ خانہ کا حج ادا ہو چکا ہے ، اس لیے بلا وجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔
کما فی الشامیۃ تحت : (قوله إن أراد السعي) أفاد أن العود إلى الحجر إنما يستحب لمن أراد السعي بعده وإلا فلا كما في البحر وغيره، وكذا الرمل والاضطباع تابعا لطواف بعده سعي كما قدمناه، وأشار إلى ما في النهر من أن السعي بعد طواف القدوم رخصة لاشتغاله يوم النحر بطواف الفرض والذبح والرمي وإلا فالأفضل تأخيره إلى ما بعد طواف الفرض، لأنه واجب، فجعله تبعا للفرض أولى كذا في التحفة وغيرها اهـ (2/500)۔