محترم ومکرم اساتذہ و مفتیان کرام!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کسی بے نمازی کو نماز کی طرف راغب کرنے کے لیے بڑھ چڑھ کر ایسے فضائل بیان کیے جائیں جو احادیث سے ثابت بھی نہیں، اسی طرح نماز کے ترک پر ایسی وعیدیں سنائی جائیں جو احادیث سے ثابت نہیں، تو کیا یہ بھی کذب کے زمرے میں آئےگا؟" توریہ" کی کہاں کہاں گنجائش ہے؟ ویسے ہی کسی غیر ضروری بات میں" توریہ" درست ہے یا یہ کذب کے زمرے میں آئےگا؟ براہِ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
نماز کے فوائد اور نقصانات جن کا تعلق مشاہدہ یا عقل سے ہو اور اسے نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کر کے بیان نہ کیا جائے تو ایسے فضائل اور وعید سنانے میں حرج نہیں ،جب کہ ان کا آپ ﷺ کی طرف منسوب کر کے بیان کرنا قطعا ناجائز اور حرام ہے اور احادیثِ مبارکہ میں اس پر سخت قسم کی وعیدیں وارد ہوئی ہیں، نیز صراحتاً جھوٹ بولنا بھی جائز نہیں، البتہ بوقتِ ضرورت ذو معنیین کلام (توریہ) استعمال کرنے میں حرج نہیں۔
ففی صحيح مسلم: عن أنس بن مالك، أنه قال: إنه ليمنعني أن أحدثكم حديثا كثيرا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «من تعمد علي كذبا، فليتبوأ مقعده من النار» اھ(1/ 10).
و فی مصطلح الحدیث: دواعی الوضع و اصناف الوضاعین:
۱۔ التقرب إلیٰ اللہ تعالیٰ یوضع أحادیث ترغب الناس فی الخیرات و أحادیث (الي قوله) من فعل المنکرات اھ (ص: ۹۰)۔
و فی الدر المختار: الكذب مباح لإحياء حقه و دفع الظلم عن نفسه و المراد التعريض لأن عين الكذب حرام قال: و هو الحق قال تعالى - {قتل الخراصون} اھ
و فی رد المحتار: (قوله قال) أي صاحب المجتبى و عبارته قال - عليه الصلاة والسلام - «كل كذب مكتوب لا محالة إلا ثلاثة الرجل مع امرأته أو ولده والرجل يصلح بين اثنين و الحرب فإن الحرب خدعة» ، قال الطحاوي و غيره هو محمول على المعاريض، لأن عين الكذب حرام. قلت: و هو الحق قال تعالى - {قتل الخراصون} [الذاريات: 10]- و قال - عليه الصلاة والسلام - «الكذب مع الفجور و هما في النار» و لم يتعين عين الكذب للنجاة و تحصيل المرام اهـ. (6/ 427)۔