میں ’’کھارادر‘‘ کی ایک مسجد میں امام ہوں، چونکہ یہ مسجد مارکیٹ میں واقع ہے، اس لیے نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے وضو ء خانہ میں رش ہوتا ہے اور پھر مغرب میں چونکہ اذان ختم ہونے کے فوراً بعد جماعت کھڑی ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے بہت سارے نمازی اذان سے پہلے پہنچنے کے باوجود ایک دو رکعت سے یا تکبیرِ تحریمہ سے رہ جاتے ہیں، تو کیا ایسی صورت میں ہم مغرب کے وقت اذان اور جماعت کے درمیان وقفہ کر سکتے ہیں؟ تاکہ نمازیوں کے لیے آسانی ہو ،اگر وقفہ کر سکتے ہیں تو کس قدر وقفہ کرنا چاہیے یعنی منٹوں کے حساب سے؟ براہِ مہربانی قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقعہ دیں۔
عند الاحناف اذانِ مغرب اور نماز میں ایک بڑی یا تین چھوٹی آیتوں کے بقدر فصل کرنا مستحب ہے، جبکہ کسی ضرورت جیسے رمضان المبارک میں افطار کرنے والوں یا رش کی وجہ سے لوگوں کی نماز یا رکعات نکل جانے کے خوف وغیرہ کی صورت میں اگر دو سے تین منٹ تک تاخیر کر لی جائے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے ، جبکہ نمازیوں کو پہلے آنے کے لیے تاکید بھی کرنی چاہیے۔
ففی سنن الترمذي: عن جابر، أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لبلال: يا بلال، إذا أذنت فترسل في أذانك، و إذا أقمت فاحدر، و اجعل بين أذانك و إقامتك قدر ما يفرغ الآكل من أكله، والشارب من شربه، والمعتصر إذا دخل لقضاء حاجته، و لا تقوموا حتى تروني. (1/ 268)۔
و في البحر الرائق: (قوله: و المغرب) أي و ندب تعجيلها لحديث الصحيحين «كان يصلي المغرب إذا غربت الشمس و توارت بالحجاب» و يكره تأخيرها إلى اشتباك النجوم لرواية أحمد «لا تزال أمتي بخير ما لم يؤخروا المغرب حتى تشتبك النجوم» ذكره الشارح و فيه بحث إذ مقتضاه الندب لا الكراهة لجواز الإباحة و في المبتغى بالمعجمة و يكره تأخير المغرب في رواية و في أخرى لا ما لم يغب الشفق الأصح هو الأول إلا من عذر كالسفر و نحوه أو يكون قليلا و في الكراهة بتطويل القراءة خلاف. اهـ. (1/ 261)۔