محترم جناب مفتی صاحب!
۱۔ اگر عورتوں کو مسجدوں میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں تو مسجد حرام و مسجد النبیﷺ میں اجازت کیوں دی جا رہی ہے؟
۲۔ عورتوں کو مساجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت کی کیا شرائط ہیں؟
عند الاحناف عورتوں کا گھروں میں نماز پڑھنا احادیثِ صحیحہ کی روشنی میں کسی بھی مسجد جا کر نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور حضرت عائشہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما اور ان کی تائید میں ہزاروں صحابہ کرام نے عورتوں کے مسجد نبوی میں ہی جا کر نماز پڑھنے سے ممانعت فرمائی تھی، اس لیے خوفِ فتنہ اور صحابہ کرام کے عموماً منع کی بناء پر یہ تمام مساجد کو شامل ہے، لہٰذا مذکورہ اعتراض بے جا ہے، جبکہ عورتوں کے حرم میں داخلے کی اجازت طواف کی بناء پر ہے۔
ففی اعلاء السنن: عن اُم سلمة رضی اللہ عنها قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم صلاة المرأة في بيتها خير من صلاتها في حجرتها و صلاتها في حجرتها خير من صلاتها في دارها، و صلاتها في دارها خير من صلاتها في مسجد قومها رواہ الطبرانی فی الأوسط بإسناد جید اھ (الترغیب والترهیب ص: ۵۹) (۱/۲۳۰)۔
و فی صحيح مسلم: عن عمرة بنت عبد الرحمن، أنها سمعت عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم تقول: «لو أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى ما أحدث النساء لمنعهن المسجد كما منعت نساء بني إسرائيل» اھ(1/ 329)۔
و فی صحيح الترغيب و الترهيب: عن أبي عمرو الشيباني: أنه رأى عبد الله يُخْرِجُ النساءَ من المسجد يومَ الجمعة، و يقول: اخرجنَ إلى بيوتِكنَّ خير لكُنَّ. رواه الطبراني في "الكبير"(1/ 261)۔
و فی الهدایة: و یكره لهن حضور الجماعات یعنی الشواب منهن لما فیه من خوف الفتنة اھ (ص: ۱۲۶)۔