کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز کے قعدۂ اخیرہ میں درود شریف کے بعد جو قرآنی دعائیں پڑھی جاتی ہیں ان کے علاوہ جو دعائیں احادیث میں منقول ہیں مثلاً اللہم إنی أسئلک الہدیٰ و التقیٰ و العفاف و الغناء وغیرہ کو نماز میں پڑھنا صحیح ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ قعدۂ اخیرہ میں درود شریف کے بعد ہر وہ دُعا جو کلام الناس کے مشابہ نہ ہو اور قرآن وحدیث سے ثابت ہو اس کا پڑھنا بلاشبہ جائز ، بلکہ مستحب ہے۔
ففی التنویر: و دعا بالأدعية المذكورة في القرآن و السنة. لا بما يشبه كلام الناس اھ(1/ 523)۔
و فی حاشية ابن عابدين: ينبغي أن يدعو في صلاته بدعاء محفوظ، و أما في غيرها فينبغي أن يدعو بما يحضره اھ(1/ 523)۔