کیا فرماتے ہیں علماءِکرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ فجر کی سنتوں کے متعلق ، کہ جس کی ادائیگی پر فضیلت اور ترک کرنے پر وعید فرمائی گئی ہے، حل طلب مسئلہ یہ ہے کہ علماءِ شریعت فرماتے ہیں کہ فجر کی سنتوں کی ادائیگی سلام سے قبل تک ضروری ہے ، البتہ اگر جماعت فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو جماعت میں شریک ہو جائے ، کیا فجر کی سنتوں کو بعد الفجر ادا نہیں کیا جا سکتا ؟ اگر نہیں تو پھر سنتوں کی قضاء کا وقت کون سا ہے؟ ازراہِ کرم قرآن وسنت کی روشنی میں مفصل ومدلل جواب مرحمت فرما ئیں ،تاکہ اطمینان نصیب ہو سکے۔ جزاک اللہ خیراً
فجر کی جماعت میں سلام سے قبل شامل ہونے کی توقع ہو تو اس دوران نمازِ فجر کی سنتیں پڑھنا لازم ہے، بلاوجہ اس کو چھوڑنا نہ چاہیے تاہم اگر کسی وجہ سے یہ رہ جائیں تو طلوعِ آفتاب سے قبل یا بعد اس کی قضاء نہیں، البتہ بقولِ امام محمدؒ زوال سے پہلے اس کی قضاء کرلینا بہتر ہے۔
ففی الدر المختار: (قوله و لا يقضيها إلا بطريق التبعية إلخ) أي لا يقضي سنة الفجر إلا إذا فاتت مع الفجر فيقضيها تبعا لقضائه لو قبل الزوال؛ و ما إذا فاتت وحدها فلا تقضى قبل طلوع الشمس بالإجماع، لكراهة النفل بعد الصبح. و أما بعد طلوع الشمس فكذلك عندهما. و قال محمد: أحب إلي أن يقضيها إلى الزوال كما في الدرر اھ (2/ 57)۔