کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھتے ہوئے قنوت پڑھنا بھول جائے اور رکوع میں یاد آجائے تو کیا کرنا چاہیے؟ براہ ِکرم جواب عنایت فرما کر ممنون فرمائیں۔
ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ قیام کی طرف واپس ہونے کی بجائے اپنی نماز جاری رکھے، اور آخر میں سجدہ سہو کرے۔
ففی الدر المختار: (ولو نسيه) أي القنوت (ثم تذكره في الركوع لا يقنت) فيه لفوات محله (ولا يعود إلى القيام) في الأصح لأن فيه رفض الفرض للواجب (فإن عاد إليه و قنت و لم يعد الركوع لم تفسد صلاته) لكون ركوعه بعد قراءة تامة (و سجد للسهو) قنت أولا لزواله عن محله اھ(2/ 9)۔
و فی الفتاوى الهندية: و لو نسي القنوت فتذكر في الركوع فالصحيح أنه لا يقنت في الركوع و لا يعود إلى القيام. هكذا في التتارخانية اھ(1/ 111)۔