کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بہت سی غیر مشہور اردو کتابوں میں مغرب کی سات رکعتیں یعنی تین فرض، دو سنت، اور دو نفل رکعت کے پڑھنے کا ذکر آیا ہے،جبکہ لوگوں کا کہنا یہ ہےکہ دو نفل رکعت ثابت نہیں ہیں ، برائے مہربانی فقہ حنفی کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں اور کہیں اس کا ثبوت ہو تو اُسے ذکر کریں۔
واضح ہو کہ نمازِ مغرب کی فقط پانچ رکعات (تین فرض اور دو سنت ) ثابت ہیں جبکہ نوافل جتنے کوئی چاہے پڑھ سکتا ہے اور اس کے لیے مخصوص وقت کی کوئی تعیین نہیں، البتہ بعض احادیثِ مبارکہ سے ہر نماز کے بعد دو رکعت پڑھنے کی فضیلت منقول ہے، تاہم غیر معتمد کتب کی وجہ سے باہم اُلجھن میں پڑھنے بلکہ ایسی کتابوں کا مطالعہ کرنے سے احتراز چاہیے۔
ففی مشكاة المصابيح: عن أم حبيبة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من صلى في يوم و ليلة اثنتي عشرة ركعة بني له بيت في الجنة: أربعا قبل الظهر وركعتين بعدها و ركعتين بعد المغرب و ركعتين بعد العشاء و ركعتين قبل صلاة الفجر ". رواه الترمذي اھ(1/ 365)۔
و فی كنز العمال: أنا أنبئك بخبر رجل ربح؟ قال: ما هو يا رسول الله، قال: ركعتين بعد الصلاة اھ (7/ 778)۔