نجاسات اور پاکی

نجاست لگنے کے بعد ہاتھ کتنی بار دھونے چاہیئے؟

فتوی نمبر :
61158
| تاریخ :
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

نجاست لگنے کے بعد ہاتھ کتنی بار دھونے چاہیئے؟

السلام علیکم! آپ سے سوال یہ پوچھنا تھا کہ: غسل کرتے وقت جب نجاست والی جگہ کو دھوتے ہیں، تو اس کے بعد جسم کے پورے نچلے حصہ کو دھونا پڑے گا یا صرف اس جگہ کو جہاں پر ظاہری ناپاکی لگی ہو۔ اور دوسرے نمبر پر ناپاکی کو دھونے کے بعد ہاتھوں کو کتنی بار دھونا چاہیئے صابن کے ساتھ۔ مہربانی فرماکر رہنمائی فرمائیں۔ کیونکہ مجھے ایک یا دو بار ہاتھ دھونے کے بعد بھی وسوسے آتے رہتے ہیں۔ سکون نہیں ملتا جب تک پانچ یا چھ بار کہنیوں تک صابن لگاکر دھونا دھوؤں اور پھر غسل شروع کرتاہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ غسل کرتے وقت بدن کے جس حصہ پر نجاست لگی ہو، صرف اس حصہ کو دھونا لازم ہے، نچلے حصہ کو دھونا لازم نہیں، البتہ اگر نجاست والا پانی نچلے حصہ پر بھی بہہ پڑے، تو پھر اس حصہ کوبھی دھونالازم ہے، جبکہ نجاست دھونے کے بعد ہاتھوں کو صابن سے دھونا لازم نہیں، بلکہ نجاست کا زائل کرنا ضروری ہے، خواہ نجاست ایک دفعہ دھونے سے زائل ہوجائے یا دو تین دفعہ دھونے سے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حماد منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 61158کی تصدیق کریں
0     16
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات