احکام نماز

بغیر عذر کے گھر میں نماز پڑھنے سے کیا گناہ لازم ہوگا؟

فتوی نمبر :
60939
| تاریخ :
عبادات / نماز / احکام نماز

بغیر عذر کے گھر میں نماز پڑھنے سے کیا گناہ لازم ہوگا؟

السلام علیکم! آپ کے جواب کا شکریہ! کچھ بھی ہو سکتا ہے، فرض کریں کہ کہ ایک شخص گھر پر ہے اور مسجد نہیں جانا چاہتا ہے اور نماز گھر پر ادا کرتا ہے۔ کیا اس طرح گھر پر نماز ادا کرنا گناہ ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ مرد کےلئے بلا عذر شرعی گھر میں نماز پڑھنے پر احادیث مبارکہ میں بڑی سخت وعیدات آئی ہیں لہذا اس سے احتراز لازم ہے اور اگر کوئی عذر ہو تو اس کی وضاحت کر کے اس سوال کو دوبارہ ای میل کر دیا جائے تو اس پر غور و فکر کے بعد اس کے حکم شرعی سے بھی آگاہ کیا جا سکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی مشكاة المصابيح: عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لولا ما في البيوت من النساء والذرية أقمت صلاة العشاء وأمرت فتياني يحرقون ما في البيوت بالنار» . رواه أحمد (1/ 337)
وفيها ايضاء: وعن عبد الله بن أم مكتوم قال: يا رسول الله إن المدينة كثيرة الهوام والسباع وأنا ضرير البصر فهل تجد لي من رخصة؟ قال: «هل تسمع حي على الصلاة حي على الفلاح؟» قال: نعم. قال: «فحيهلا» ولم يرخص له. رواه أبو داود والنسائي (1/ 338)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60939کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات