السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ! حضرات مفتیان کرام! اگر کوئی شخص تحری کے بعدظن غالب کی بناء پر غیر مستحق کو زکوٰۃ دے دے ،تو زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے ،لیکن سوال یہ ہے کہ اس غیر مستحق کو زکوٰۃ کی رقم لیتے وقت زکوٰۃ کا علم نہیں تھا، بلکہ اس نے یہ سمجھا کہ یہ ہدیہ کی رقم ہے اور اس نے ہدیہ سمجھ کر اس رقم پر قبضہ کر کے استعمال بھی کرلیا، تو اب اس غیر مستحق شخص کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ کیا وہ شخص استعمال شدہ زکوٰۃ کی رقم کو نکال کر معطی کو واپس کریگا ؟ یا واپس کرنا ضروری نہیں ہے ؟
واضح ہو کہ اگر غیر مستحق کو زکوۃ کی رقم وغیرہ لیتے وقت علم نہ ہو اور وہ زکوۃ کی رقم وغیرہ استعمال کرلے، پھر بعدمیں زکوۃ کا علم ہو تو ایسی صورت میں مذکور رقم کی مقدار اصل مالک کو لوٹانا لازم ہے، البتہ اگر اصل مالک زکوۃ کے بجائے ہدیہ کی نیت کرلے، تو ایسی صورت میں وہ رقم ہد یہ شمار ہو گی، لہذا اس کیلئے استعمال کی گئی رقم حلال اور جائز ہوگی۔
كما في الدر المختار: ولا يسترد منه لوظهر انه عبد او حربي و في الهاشمى روايتان ولا يسترد فى الولد والغنى وهل يطيب له ؟ فيه خلاف، واذا لم يطب قيل يتصدق وقيل يرد على المعطى- اهـ (353/2)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0