مباحات

مخصوص پیغامات کو آگے شیئر کرنے نہ کرنے پرنفع و ضررکا اعتقاد

فتوی نمبر :
60886
| تاریخ :
2006-08-12
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

مخصوص پیغامات کو آگے شیئر کرنے نہ کرنے پرنفع و ضررکا اعتقاد

کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حال ہی میں مجھے ایک دوست کی طرف سے ’’اللہ اکبر‘‘ کا پیغام ملا ہے اور اس کو بارہ لوگوں تک پہچانا ہے ، اور اگر میں ایسا کرتا ہوں تو میری تمام خواہشات پوری ہوں گی بارہ دن میں، اور اگر میں اس پر توجہ نہیں دیتا ہوں تو پھر میری خواہشات بارہ سال تک بھی پوری نہیں ہونگی؟ تو ایسے پیغام کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کی شرعاً کیا حقیقت ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

یہ پیغام اس اعتقاد کے ساتھ آگے پہنچانا کہ نہ پہنچانے کی صورت میں خواہشات اور حاجات پوری نہیں ہونگی، قطعاً غلط اور خلافِ شریعت نظریہ ہے، اس سے احتراز چاہیے، البتہ اس نظریہ اور اعتقاد سے ہٹ کر مذکور تکبیر کا پیغام پہنچانا فی نفسہ جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی مسند أحمد: أن ابن عباس حدثه قال: كنت ردْفَ النبي - صلى الله عليه وسلم -، فقال لي: "يا غلام، إني محدثك حديثاً: احفظ الله يَحفظْك، احفظ الله تجدْه تجَاهك، إذا سألتَ فاسأل الله، وإذا استعنتَ فاستعِنْ بالله، فقد رفعتَ الأقلامُ: وجَفَّت الكتب، فلو جاءت الأُمةُ ينفعونك بشيء لم يكتُبه الله عز وجل لك لما استطاعتْ، ولو أرادتْ أن تضرك بشيء لم يكتبه الله لك ما استطاعت".(3/ 229)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60886کی تصدیق کریں
1     756
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات