کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حیلۂ اسقاط مروّجہ ، جس میں یتیم اور غیر کا مال تقسیم ہوتا ہے امیر اور غریب کو دیا جاتا ہے ، میت کے مال کو رکھ کر، علماءِکرام اور بعض عوام دائرہ بنا کر ایک دوسرے کو یہ الفاظ کہہ کر بخشتے ہیں کہ’’یہ مالِ قلیل بخلافِ کثیرغبنِ فاحش میں نے آپ کو بخش دیا‘‘ یہ طریقہ اختیار کرنا کیسا ہے؟
مذکورہ مروّجہ حیلہ اسقاط بلاشبہ بدعت اور ناجائز ہے، جس کا شریعتِ مطہرہ میں کوئی ثبوت نہیں، اور جس حیلۂ اسقاط کی ، بعض فقہاء نے فقیر میت کے لیے کچھ شرائط کے ساتھ اجازت دی ہے،عوام لوگ نہ تو ان شرائط کو جانتے ہیں اور نہ ان کی رعایت کی جاتی ہے،لہٰذا مذکورہ حیلۂ اسقاط سے احتراز لازم ہے۔
ففی الدر المختار: و لو لم يترك مالا يستقرض وارثه نصف صاع مثلا و يدفعه لفقير ثم يدفعه الفقير للوارث ثم و ثم حتى يتم اھ(2/ 73)۔