کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ (۱) ہمارے علاقہ میں جب کسی کا انتقال ہوجاتا ہے تو اس کی نمازِ جنازہ کے بعد سب لوگ جمع ہوکر ایک دائرہ لگالیتے ہیں ایک آدمی قرآن مجید کو لاتا ہے پھر سب لوگ ایک ایک کرکے اس پر ہاتھ لگاتے ہیں پھر اس قرآن مجید کو ایک آدمی کو حوالے کر دیتے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ ابھی دو گروپ ہوگئے ہیں لوگوں کے، ایک گروپ والے کہتے ہیں کہ جنازے کے بعد دائرہ لگاکر قرآنِ مجید کو پھیرنا جائز ہے، دوسرے گروپ والے کہتے ہیں کہ ایسا کرنا بالکل جائز نہیں ہے یہ بدعت ہے جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ جائز ہے وہ اپنے لئے یہ دلیل پکڑتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایسا کیا گیا ہے اور فتاویٰ شامی میں بھی ایک روایت ہے کہ میت کے بعد دائرہ لگاکر قرآنِ مجید کو پھیرا گیا ہے اور کہتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ کے دور میں آخری دس پارے پھیرے گئے ہیں اور دوسرے گروپ والے کہتے ہیں کہ کسی کتاب یا فتاویٰ میں قرآنِ مجید کےدورے کے بارے میں نہیں آیا ہے، ابھی آپ حضرات مہربانی فرماکر قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح دلائل کے ساتھ ہمیں جوابات تحریر کریں تاکہ ہم دونوں موقعوں میں حق بات کا فیصلہ کرکے اس بدعت کو ختم کردیں اور آیا حضور ﷺ، خلفائے راشدین، تابعین یا تبع تابعین حضرات کے جنازوں کے بعد ایسا کوئی دائرہ لگاکر قرآن مجید کو پھیراگیا ہے یا نہیں؟
(۲) جنازہ کے بعد ہاتھ اُٹھاکر دعا جائز ہے یا کسی حدیث سے ثابت ہے یا نہیں؟ یعنی سب لوگ جمع ہوکر میت کیلئے دعا کریں؟ برائے مہربانی ان دونوں مسئلوں کو واضح دلائل کے ساتھ تحریر فرمادیں۔ شکریہ!
نمازِ جنازہ کے بعد ’’دورانِ قرآن‘‘ یعنی قرآن کا دائرہ میں پھرانا قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر سے ثابت نہیں اور اس سلسلہ میں جو روایات پیش کی جاتی ہیں وہ روایۃً و درایۃً یعنی عقل و نقل دونوں کے خلاف ہونے کی بناء پر قابلِ استدلال نہیں چہ جائیکہ اس سے کوئی مسئلہ شرعیہ ثابت ہو لہٰذا مذکور طریقہ کو ثابت کرنے والے گروپ کو چاہئے کہ اپنے اس غلط رویہ سے مکمل احتراز کرے اور حق کے اتباع کو اپنا شعار بنائے۔
(۲) اسی طرح نمازِ جنازہ کے بعد اجتماعی طور پر ہاتھ اُٹھاکر دعا کرنا بھی قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر سے ثابت نہیں لہٰذا یہ بھی بدعت ہے جس سے احتراز لازم ہے۔
فی المرقاۃ: لا یدعو للمیت بعد صلوٰۃ الجنازۃ لانہ یشبہ بالزیادۃ فی صلوٰۃ الجنازۃ۔ (ج:۴، ص:۶۴)
وفی البزازیہ: لا یقوم بالدعاء بعد صلوٰۃ الجنازۃ لانہ دعا مرۃ۔ (ج:۱، ص:۸۰)
وفی فتاویٰ سراجیہ: اذا فرغ من الصلوٰۃ لا یقوم بالدعاء۔ (ص۲۳) وﷲ اعلم!