کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ان مسائل کے بارے میں کہ:
(۱) عورتوں کا قبرستان میں جانے کا کیا حکم ہے؟ کس وقت جائیں اور کیا عمل کریں؟
(۲) قبر کو کچا بنایا جائے، لیکن مٹی اُڑنے سے حفاظت کے طور پر اس کا احاطہ یعنی چار دیواری پکی اینٹوں سے تعمیر کی جائے، تو اس کا کیا حکم ہے؟
(۳) زیارتِ قبر کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ نیز کون کون سے اوراد ، ادعیہ اور وظائف پڑھے اور میت کی کس جانب کھڑا ہو؟
قوی امید ہے کہ قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں تسلی بخش باحوالہ اور مدلل جواب عنایت فرمائیں گے۔
(۱) عورتوں کا قبرستان جانا مکروہِ تحریمی ہے، اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر جانے والی عمر رسیدہ اور بڑھیا خاتون ہو ،تو اس کے جانے میں حرج نہیں، گنجائش ہے،جبکہ اس سے بھی احتراز بہتر ہے۔
(۲) مذکور طریقہ پر قبر کی تعمیر جائز نہیں، البتہ ان اینٹوں کی جگہ پتھر اور سیمنٹ کی جگہ گارے مٹی سے کام لیا جائے،اور محض قبر کے احاطہ کو پتھروں کے باڑ سے گھیر کر انہیں گارے سے جوڑ دیا جائے، اور درمیان میں مٹی ڈال کر کوہان نما بنادی جائے، تو اس کی گنجائش ہے یہ منع نہیں ہے۔
(۳) اس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ، قبر کے پاؤں کی جانب سے آکر پہلے ’’السلام علیکم دار قوم مؤمنین وانا ان شاء اللہ بکم لاحقون ونسال اللہ لنا ولکم العافیۃ‘‘ پڑھے اور س کے بعد حسبِ موقع و التوفیق سورۂ فاتحہ، آیۃ الکرسی، سورۂ بقرہ کی ابتدائی اور آخری آیات، سورۂ یٰس، سورۂ ملک (تبارک الذی)، سورۂ تکاثر اور سورۃ الاخلاص وغیرہ پڑھ کر ان وظائف کا تمام مسلمان مُردوں کو ایصال ثواب کردے، اپنے اور تمام مرحومین کیلئے دعائے مغفرت بھی کرے۔
ففی الشامیة: تحت قول ہذا: وبزیارۃ القبور ولو للنساء وقیل تحرم علیہن وقال الخیر الرملی، ان کان ذالک لتجدید الحزن والبکاء والندب علٰی ما جرت بہ عارتہن فلا تجوز، وعلیه حمل الحدیث ’’لعن اﷲ زائرات القبور‘‘ وان کان للاعتبار والترحم من غیر بکاء والتبرک بزیارۃ قبور الصالحین فلا بأس اذا کن عجائز ویکرہ اذا کنّ شواب کحضور الجماعة فی المساجد اھ(٢٤٢/٢)
وفی الشامیة: وعن ابی حنیفة یکرہ ان یبنی علیه بناء من بیت او قبلة او نحو ذالک لما روی جابرؓ ’’نہی رسول اﷲ ﷺ عن تجصیص القبور وان یکتب علیہا، واٰن یبنی علیہا‘‘۔ رواہ مسلم وغیرہ اھـ (٢٣٧/٢)
وفی الشامیة: من آداب الزیارۃ ما قالوا، من انه یاتی الزائر من قبل رجلی المتوفی لا من قبل رأسه ومن آدابہا ان یسلم بلفظ ’’السلام علیکم دار قوم مومنین وانا ان شآء اﷲ بکم لاحقون ونسال اﷲ لنا ولکم العافیۃ‘‘ ثمّ یدعو قائمًا طویلًا وفیه بعد اسطر، ویقرأ من القرآن ما تیسرله من الفاتحة واول البقرۃ الٰی المفلحون وآیة الکرسی۔ وآمن الرسول۔ وسورۃ یٰٓسین وتبارک الملک وسورۃ التکاثر والاخلاص اٹنی عشر مرّۃ او احدی عشر او سبعًا او ثلاثًا ثم یقول اللّٰہم اوصل ثواب ما قرأناہ الی فلان او الیہم اھ(٢٤٢/٢) واﷲ اعلم