کیا فرماتے ہیں علماءِکرام و مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حیلۂ اسقاط کا مروجہ طریقہ یہ ہے کہ ایک دائرہ لگایا جاتا ہے اور اس میں امیر و غریب دونوں قسم کے لوگ بیٹھتے ہیں اور دائرہ ولی میت کیلۓ بھی ہوتا ہے ،اور اس میں گندم اور پیسے سب اپنے اپنے گھروں میں لے جاتے ہیں ، اب پوچھنا ہےکہ حیلے کا یہ مروجہ طریقہ جائز ہے یا نہیں؟تفصیل سے بیان کریں ۔
مروّجہ حیلۂ اسقاط جو ہمارے زمانہ میں مروج اور مشہور ہے ،بلاشبہ بدعت اور ناجائز ہے، اولاً اس لئے کہ اگر یہ کوئی کارِ خیر ہوتا تو نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرامؓ اس کیلئے زیادہ تاکید کرتے کیونکہ ان کی شفقت عام مؤمنین کے ساتھ بہت بڑھی ہوئی تھی مگر باوجود اس کے ایسے لوگوں کے لۓ ، جن کے ذِمہ نماز، روزہ وغیرہ قضا ء واجب تھے ،ان حضرات نے یہ حیلہ تجویز نہیں فرمایا، علاوہ ازیں بعض فقہاءِ کرامؒ نے جو کہیں اس کی اجازت دی ہے وہ اس وقت ہے جب کہ اتفاقاً کسی آدمی کیلئے ضرورت پڑجائے اور فسادِ عقیدۂ عوام نہ ہو اور رسمِ بدعت نہ پڑجائے ورنہ جب منکرات پر مشتمل ہوجائے تو پھر اس کا ترک بالاتفاق ضروری ہوجاتا ہے (صرح بہ الشامی وغیرہ )جیسا کہ ہمارے زمانے میں طرح طرح کے منکرات اس میں پیدا ہوگئے ہیں، اولاً تملیکِ فقراء اس طرح کی جاتی ہے کہ اس سے تملیک ہی متحقق نہیں ہوتی، ثانیاً اس رسم کے پڑجانے سے عوام دلیر ہوجاتے ہیں کہ نماز روزہ سب حیلۂ اسقاط کے ذریعے ساقط ہوجائیں گے، ثالثاً لوگوں نے اس کا ایسا التزام کرلیا ہے کہ اس کو ایک مستقل عمل، اعمالِ تجہیز و تکفین میں سے سمجھتے ہیں، جو یقینا بدعت ہے۔
في فتاوى اللجنة الدائمة : حيلة الإسقاط لما على الميت من حقوق لله تعالى من صلوات و نذور و كفارات و نحوها على الوجه المذكور في السؤال ـ بدعة محدثة و طريقة مخترعة لا أصل لها في الشرع ، و قد ثبت عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد » ، و في لفظ : «من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد اھ(11/ 332)۔
و فی الدرر السنية : فهكذا باع القوم آخرتهم بدنياهم و حرضوا الناس على عدم العمل و ترك الصلوات و الصوم و الأعمال التي عليها مدار النجاة حسب تعاليم الله جل و علا و إرشادات رسول الله صلى الله عليه و سلم و ما دام دخل القوم في الحيل فوصلوا إلى أقصاها فقالوا : أسهل طريقة أن يبيع الوارث على الفقير مصحفا صحيحا قابلا للقراءة بغبن فاحش ثم يهب الفقير له ثم فثم حتى يستتم لعل الله يجعله فدية في مقابلة الصوم و الزكاة و المنذورات".و لا يسعنا إلا أن نقول نعم إنها حيلة و لكنها حيلتكم لأكل أموال الناس بالباطل اھ(8/ 408)۔