کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جب فوتگی ہوجائے اور لوگ میت کے ورثاء کے پاس تعزیت کیلئے جاتے ہیں، تو یہ تعزیت کیلئے جانا شریعت میں کیا حکم رکھتا ہے؟ اور کتنے دن تک تعزیت قرآن و سنت سے ثابت ہے؟ مزید یہ کہ مندوبین کے پاس تعزیت کے وقت ہاتھ اُٹھا کر دعاء مانگنا ثابت ہے یا نہیں؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب سے مستفید فرمائیں۔ شکریہ
کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کیلئے جانا جائز اور مستحب ہے، احادیثِ مبارکہ میں اس کے بڑے فضائل بیان کئے گئے ہیں، بشرطیکہ وہاں کسی خلافِ شرع امر کا ارتکاب لازم نہ آئے، پھر تعزیت صرف تین دن تک جائز ہے اس کے بعد مکروہ ہے الّا یہ کہ کوئی اس وقت غائب ہو بعد میں حاضر ہوا ہو تو اس کے لئے تین دن کے بعد بھی جائز ہے اور تعزیت میں ’’أعظم اﷲ أجرک، وأحسن عزائک، وغفر لمیتک‘‘ وغیرہ جیسے کلمات سے تعزیت کرنا بھی جائز ہے اور اگر ہاتھ اُٹھاکر دعا کرنے کو ضروری یا واجب نہ سمجھا جاتا ہو ،فقط دعا کے آداب کے طور پر ہاتھ اُٹھالئے جائیں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
فی رد المحتار: وتستحب التعزیۃ للرجال والنساء اللاتی لا یفتن، لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام من عزی أخاہ بمصیبۃ کساہ اﷲ من حُلل الکرامۃ یوم القیامۃ رواہ ابن ماجۃ۔ (ج۲، ص۲۴۰)
وفی الھندیۃ: ووقتہا من حین یموت إلٰی ثلاثۃ أیام ویکرہ بعدہا إلا أن یکون المعزی أو المعزی الیہ غائبا فلا بأس بہا۔ (ج۱، ص۱۶۷)۔
وفی عمدۃ القاری للعینی: فی قصۃ أبی عامر قال یا ابن أخی أقرأ النبی السلام و قل لہ استغفرلی واستخلفنی أبو عامر علی الناس فمکث یسیرا ثم مات فرجعت فدخلت علی النبی علیہ السلام فی بیتہ علی سریر مرمل وعلیہ فراش قد أثّر رمال السریر بظہرہ وجنبیہ فأخبرتہ بخبرنا وخبر أبی عامر وقال قل لہ استغفرلی فدعا بماء فتوضأ ثم رفع یدیہ فقال اللّٰہم اغفر لعبید أبی عامر ورأیت بیاض إبطیہ۔ الخ (ج۱۷، ص۲۰۱)۔