مفتی صاحب! مجھے یہ جاننا ہے کہ تعزیت کب تک اور کیسے کی جائے؟
کسی کے مرنےپر اس کے اہل وعیال کے پاس جا کر تعزیت کرنا مسنون اور احادیثِ مبارکہ میں اس کے بہت زیادہ فضائل وارد ہوئے ہیں ، اور اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اہلِ میت کے سامنے ایسی باتیں کہی جائیں ، جن سے ان کے دل کو تسلّی ہو اور ان کا بوجھ ہلکا ہوجائے ،اور شریعتِ مطہرہ نے تعزیت کی مدت تین دن مقرر کی ہے ،البتہ اگر کوئی مسافر ہو یا تین یوم کے بعد معلوم ہو تو وہ اس مدت کے بعد بھی تعزیت کرسکتاہے ، تاہم بغیر کسی عذر کے تین دن کے بعد تعزیت کرنا یا اہلِ میت کا تین دن کے بعد تعزیت کیلیے بیٹھ جانا یا مسجد میں اہتمام کے ساتھ اجتماعی ختم کیلیے لوگوں کا جمع ہونا اور کھانے کا انتظام کرنا ،یہ سب امور بے اصل اور خلافِ شرع ہیں،جن سے احترازلازم ہے ، مقامی علماءِ کرام کی ذمّہ داری بنتی ہے کہ ایسے غیر شرعی مراسم میں لوگوں کا ساتھ دینے کے بجائے وہ جمعہ کی تقریروں میں لوگوں کو اس قسم کے مسائل کے بارے میں آگاہ کریں۔
فی الدر المختار : لا بأس بنقله قبل دفنه و بالإعلام بموته (الي قوله) و بتعزية أهله و ترغيبهم في الصبر و بالجلوس لها في غير مسجد ثلاثة أيام ، و أولها أفضل . و تكره بعدها إلا لغائب . و تكره التعزية ثانيا ، و عند القبر ، و عند باب الدار ؛ و يقول عظم الله أجرك، و أحسن عزاءك اھ
و فی رد المحتار : في شرح المنية : و تستحب التعزية للرجال و النساء اللاتي لا يفتن ، لقوله – عليه الصلاة والسلام -,,من عزى أخاه بمصيبة كساه الله من حلل الكرامة يوم القيامة,, رواه ابن ماجه و قوله – عليه الصلاة و السلام - «من عزى مصابا فله مثل أجره» رواه الترمذي و ابن ماجه . و التعزية أن يقول : أعظم الله أجرك ، و أحسن عزاءك ، و غفر لميتك . اھ(2/ 241)۔
و قال أيضا : و يكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور ، و هي بدعة مستقبحة اھ(2/ 240)۔