احکام نماز

قصداً دعاءِ قنوت رکوع کے بعدپڑھنا

فتوی نمبر :
60515
| تاریخ :
2003-09-09
عبادات / نماز / احکام نماز

قصداً دعاءِ قنوت رکوع کے بعدپڑھنا

کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص حنفی المسلک ہے، جبکہ اس نے غیر مقلدین کےمدرسہ میں بھی کچھ تعلیم حاصل کی ہے اور اُن سے متأثر ہونے کی بناء پر تین رکعت وتر میں بعض اوقات قصداً دعائے قنوت رکوع کے بعد ادا کرتا ہے تو اس کی نمازِ وتر درست ہوگی یا نہیں؟ کیونکہ ہمارے محلہ کے امام صاحب نے بتایا کہ وتر کی نماز درست ہو جائےگی ،کیونکہ حدیث میں دعا ءِ قنوت رکوع کے بعد پڑھنے کا بھی ذکر آیا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

پہلے تو یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ ائمہ اربعہ کے مذاہب میں سے ہر ایک مذہب کے احکام و مسائل قرآن و حدیث ہی سے ثابت ہیں، حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی نے اپنی کتاب ’’عقد الجید‘‘ میں اس موضوع کے لیے مستقل ایک باب قائم فرمایا، جس میں ان چاروں مذہبوں کے اختیار کرنے کی تاکید اور ان کو چھوڑنے اور ان سے باہر نکلنے کی شدید ممانعت بیان فرمائی، علامہ ابن تیمیہؒ جو تقلیدِ شخصی کے وجوب کے حامی نہیں، اس کے باوجود یہ تسلیم فرماتے ہیں کہ اپنی خواہشات کے تابع ہو کر کبھی کسی کا اور کبھی کسی کا مذہب اختیار کر لینا باجماعِ امت ناجائز ہے، شیخ الاسلام علامہ نوویؒ فرماتے ہیں کہ ہر شخص پر لازم ہے کہ جس امام کا مقّلد ہو معین طور پر ،اُسی کی تقلید کرے ، تاکہ خواہشاتِ نفسانیہ میں مبتلا ہو کر کہیں اسلام کا دامن ہی ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے ، لہٰذامذکور شخص پر لازم ہے کہ احکامِ شرعیہ میں اپنی عقلی رائے پر عمل کرنے کے بجائے علماءِ احناف نے قرآن و حدیث ہی کی روشنی میں جو احکام و مسائل مستنبط فرمائے ہیں ان کو لازم پکڑے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ اگر کوئی شخص رکوع سے پہلے دعاء ِقنوت پڑھنا بھول جائے تو اُسے قعدہ اخیرہ کے بعد سجدہ سہو کرنا چاہیے اور اگر بھولے سے رکوع کے بعد دعاءِ قنوت پڑھ لی تو اس صورت میں نماز ہو جائےگی، تا ہم قصداً ایسا کرنے سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی المجموع شرح المهذب: وَ وَجْهُهُ أَنَّهُ لَوْ جَازَ اتِّبَاعُ أَيِّ مَذْهَبٍ شاء لا فضى إلَى أَنْ يَلْتَقِطَ رُخَصَ الْمَذَاهِبِ مُتَّبِعًا هَوَاهُ وَ يَتَخَيَّرَ بَيْنَ التَّحْلِيلِ وَ التَّحْرِيمِ وَ الْوُجُوبِ وَ الْجَوَازِ وَ ذَلِكَ يُؤَدِّي إلَى انْحِلَالِ رِبْقَةِ التَّكْلِيفِ بِخِلَافِ الْعَصْرِ الْأَوَّلِ فَإِنَّهُ لَمْ تَكُنْ الْمَذَاهِبُ الْوَافِيَةُ بِأَحْكَامِ الْحَوَادِثِ مُهَذَّبَةً وَ عُرِفَتْ: فَعَلَى هَذَا يَلْزَمُهُ أَنْ يَجْتَهِدَ فِي اخْتِيَارِ مَذْهَبٍ يُقَلِّدُهُ عَلَى التَّعْيِينِ اھ (1/ 55)۔
و فی حجة الله البالغة: أن هذه المذاهب الأربعة المدونة المحررة قد اجتمعت الأمة - أو من يعتد به منها - على جواز تقليدها إلى يومنا هذا، و في ذلك من المصالح ما لا يخفى لا سيما في هذه الأيام التي قصرت فيها الهمم جدا، و أشربت النفوس الهوى و أعجب كل ذي رأي برأيه، فما ذهب إليه ابن حزم حيث قال: التقليد حرام لا يحل لأحد أن يأخذ قول أحد غير رسول الله صلى الله عليه و سلم بلا برهان لقوله تعالى: ﴿و اتبعوا ما أنزل إليكم من ربكم و لا تتبعوا من دونه أولياء﴾.و قوله تعالى: ﴿و إذا قيل لهم اتبعوا ما أنزل الله قالوا بل نتبع ما ألفينا عليه آباءنا﴾ .(1/ 263)۔
و فی الدر المختار: (و لو نسيه) أي القنوت (ثم تذكره في الركوع لا يقنت) فيه لفوات محله (و لا يعود إلى القيام) في الأصح لأن فيه رفض الفرض للواجب (فإن عاد إليه و قنت و لم يعد الركوع لم تفسد صلاته) لكون ركوعه بعد قراءة تامة(و سجد للسهو) قنت أولا لزواله عن محله اھ(2/ 9)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60515کی تصدیق کریں
0     1382
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات