کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کی بیوی کو دورانِ حمل گردے اور سانس کی تکلیف رہتی ہے اور تقریباً دو ماہ پہلے بیٹی کی ولادت ہوئی ہے اور شوہر کا ارادہ تھا کہ اس کا مکمل علاج کرلیا جائے، لیکن اب پھر حمل کا پہلا مہینہ شروع ہوچکا ہے، لیکن بندہ علاج کی غرض سے صفائی کروانا چاہتا ہے اس بارے میں شرعی مسئلہ بتاکر مشکور فرمائیں۔
مذکورہ صورت میں مریض کی مکمل صورتِ حال بتاکر ، کسی دیندار ماہر معالج کے مشورہ سے ایسا کرنے کی گنجائش ہے بشرطیکہ یہ عمل حمل کے چار ماہ ہونے سے پہلے کرلیا جائے، اس کے بعد جائز نہیں۔
و فی الہندیۃ: العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر و الظفر و نحوهما لا يجوز و إن كان غير مستبين الخلق يجوز و أما في زماننا يجوز على كل حال و عليه الفتوى كذا في جواهر الأخلاطي الخ
و فیہا ایضًا: امراۃ مرضعتہ ظہر بہا حبل و انقطع لبنہا و تخاف علی ولدہا الہلاک و لیس لابی ہذا الولد سعۃ حتی یستأجر الظئریباح لہا ان تعالج فی استنزال الدم ما دام نطفۃ او مضغۃ او علقۃ لم یخلق لہ عضو و خلقہ لا یستبین الا بعد مائۃ و عشرین یوما اربعون نطفۃ و اربعون علقۃ و اربعون مضغۃ کذا فی خزانۃ المفتین۔ (ج۵، ص۳۵۶)۔