کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے یہ مقرر کیا تھا کہ میں اپنی تنخواہ میں سے سات (۷) فیصد اللہ کے راستے میں دیا کروں گا اور میں تقریباً دو سال سے یہ دے رہا ہوں ، اب میری تنخواہ پانچ ہزار روپے ہے جن کے سات (۷) فیصد تین سو پچاس (۳۵۰) روپے بنتے ہیں ، لیکن اب میرے اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ یہ اب میرے لئے مشکل ہوگیا۔
(۱) کیا میں نے جو یہ سات فیصد تنخواہ اللہ کے راستے میں دینا مقرر کیا تھا اللہ کے راستے میں دینا بند کرسکتا ہوں یا یہ مجھے ساری عمر دینا پڑیں گے؟
(۲) ہمارے گھر میں میرے ماموں کا ایک بیٹا (جو میرا سالہ بھی ہے) رہتا ہے، جس کو ہم نے اس کے ماں باپ کے غریب ہونے کی وجہ سے گھر میں رکھا ہوا ہے اور وہ یہیں پڑھ رہا ہے اس کی عمر تقریباً آٹھ سال ہے، کیا میں اس سات فیصد میں سے جو اللہ کی راہ میں دیتا ہوں اس پر خرچ کرسکتا ہوں؟
(۳) کیا آدمی اپنے صدقات ، زکوٰۃ اور خیرات وغیرہ اپنے غریب بہن بھائیوں ، چچا ، چچا کے بیٹوں یا دوسرے قریبی عزیز و اقارب کو دے سکتا ہے؟
(۴) میرا اپنی تنخواہ سے مشکل سے روز مرہ کا گزارا ہوتا ہے اور میرے پاس کوئی جائیداد وغیرہ بھی نہیں ہے اور میرے گھر میں استعمال سے اضافی کچھ چیزیں پڑی ہیں جن کی مالیت تقریباً تیس ہزار روپے بنتی ہے کیا میرے اوپر قربانی کرنا لازم ہے؟
(۱، ۲ ،۳) واضح ہو کہ سائل نے اگر محض یہ نیت کی تھی اور خیر و برکت کے حصول کیلئے اپنی تنخواہ سے سات فیصد دینے کا طے کیا تھا تو اس طرح کہنے سے اگرچہ اتنی رقم دینا بہتر اور افضل ہے مگر اس پر لازم نہیں ، جبکہ وہ اس رقم کو اپنے مذکور سالے پر بھی خرچ کرسکتا ہے، اسی طرح سوال میں مذکور دیگر عزیز رشتہ داروں کو دینے میں دوہرا اجر و ثواب ہے لہٰذا اس کا اہتمام چاہئے۔
(۴) جاننا چاہئے کہ مذکور اضافی سامان کی بیان کردہ مالیت آ ج کل کے حساب سے ، صدقہ فطر اور قربانی کے وجوب کا سبب بن جاتی ہے اس لئے سائل پرقربانی کرنا لازم ہے۔
و فی تنویر الابصار : (و لا الی من بینہما ولاد أو بینہما زوجیۃ)الخ و فی الشامیۃ : أی بینہ و بین المدفوع الیہٖ لأن منافع الأملاک بینہم متصلۃ فلا یتحقق التملیک (الی قولہٖ) و کذا کل صدقۃ واجبۃ کالفطرہ و النذر و الکفارات أما التطوع فیجوز بل ہو اولٰی (الی قولہٖ) و قید بالولاد لجوازہ لبقیۃ الاقارب کالاخوۃ و الأعمام و الأخوال الفقراء بل ہم أولی لأنہ صلۃ و صدقۃ۔(ج۲، ص۳۴۶)۔
و فی الشامیۃ : (قولہ و الیسار) بان ملک مأتی درہم او عرضًا یساویہا غیر مسکنہ و ثیاب اللبس أو متاع یحتاجہ إلی أن یذبح الاضحیۃ و لو لہ عقار یستغلہ فقیل تلزم لو قیمتہ نصابًا (الی قولہٖ) أو متاع البیت۔ (ج۶، ص۳۱۲)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0