محترم و برادرم حضرت مفتی صاحب مدظلہ العالی ! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
بعد سلام عرض ہے کہ ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے وہ یہ کہ چند یوم پہلے رفع یدین والا مسئلہ ہوا تھا ، ہم نے کتابیں دکھائی تھیں جبکہ دوسرے فریق کا کہنا تھا کہ دلائل صحاحِ ستہ میں سے ہوں تو مانیں گے و گرنہ نہیں، تو مسئلہ یہ ہے:
(۱) جو جماعت یا فریق صحاحِ ستہ کو مانیں باقی کا انکار کریں اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں علمائے کرام؟
(۲) نیز رفعِ یدین تین مرتبہ ہے یا ایک مرتبہ ہے یا کہ چار مرتبہ یا ہر تکبیر کے ساتھ ؟ (۳) راوی جو ضعیف ہوتا ہے کس وجوہ کی بنا پر ؟ یا ایسے کہہ دیں جو حدیث موافق نہیں تو اس کے راوی یا یہ حدیث ضعیف ہے؟ جواب دے کر مشکور فرمائیں۔
سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ حضرات محدثین کی محنت و جانفشانی ، پر خلوص تقویٰ و پرہیزگاری اور خاص کر کسی شخص کی احادیث کو قبول کرنے کے سلسلہ میں بڑی کڑی اور سخت قسم کی شرائط کو ملحوظ رکھنے کی بنیاد پر اللہ رب العزت نے ان حضرات کی تصانیف کو بھی مرتبہ اور مقام سے نوازا ہے ، پھر ان حضرات کو اپنے اپنے اصول و ضوابط کے مطابق جتنی احادیث میسر آسکیں، انہوں نے اپنی اپنی تصانیف میں درج فرمادیا، تو اس طرح احادیث کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ایسا بھی ہے جو ان حضرات کی شرائط اور اصول و ضوابط کے عین مطابق ہے مگر اس وقت میسر نہ آنے کی بناء پر یہ حضرات اسے اپنی تصانیف میں درج کرنے قاصر رہے۔
لہٰذا کسی شخص کا یہ کہنا کہ ’’اختلافی مسئلہ کی احادیث اگر صحاحِ ستہ میں ہوں تو مانیں گے و گرنہ نہیں‘‘ نہایت تنگ نظری ، دین سے دوری ، اصولِ حدیث سے ناواقفی اور راہِ اعتدال سے کوسوں دور ہونے کی واضح دلیل ہے اور بسا اوقات اس قسم کے رَویے کی بناء پر صراحۃً احادیثِ رسول سے بھی انکار ہوجاتا ہے (العیاذ باﷲ) لہٰذا اس قسم کی باتوں سے احتراز کرنا چاہئے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ رفعِ یدین کرنا اور نہ کرنا دونوں ثابت ہیں لیکن حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر ، حضرت علی ، حضرت عبداﷲ بن مسعود ، حضرت براء بن عازب ، حضرت عبد ﷲ بن عباس ، حضرت جابر بن سمرہ اور کئی دیگر اَجِلّہ (بڑے) صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین اور اہلِ مدینہ و اہلِ کوفہ ، ترکِ رفع یدین پر عامل رہے ہیں ، اور آئمہ میں سے حضرت امام ابوحنیفہ اور امام مالک رحمہما ﷲ کا مذہب بھی ترکِ رفع یدین کا ہے یعنی رفعِ یدین نہ کرنا افضل ہے اگرچہ رفع یدین بھی جائز ہے۔
درحقیقت ابتداءِ اسلام میں بکثرت رفعِ یدین پر عمل ہوتا تھ ا،مگر آہستہ آہستہ حکم میں تبدیلی آتی گئی ، آخر کار عہدِ رسالت کے آخری دور میں صرف ایک مرتبہ تکبیرِ تحریمہ کے وقت رفعِ یدین رہ گیا تھا ، ورنہ احادیث سے چھ (۶) دفعہ رفعِ یدین کرنا بھی ثابت ہے ، مگر ائمہ اربعہ میں سے کوئی امام اور نہ ہی کوئی غیر مقلد اپنی نماز میں چھ (۶) دفعہ رفعِ یدین کرتا ہے ، حالانکہ احادیث مبارکہ سے چھ (۶) مرتبہ رفع یدین کرنا بھی ثابت ہے، اور آخر کار فقط ایک ہی مرتبہ تکبیرِ تحریمہ کے وقت رفعِ یدین پر عمل کرنا رہ گیا تھا جیسا کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود کی روایت سے بخوبی معلوم ہورہا ہے۔
(کذا فی الترمذی ج۱، ص۵۸، والنسائی ج۱،ص۱۵۸)
پھر جن احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ایک سے زائد مرتبہ رفعِ یدین نہ کرنے کو ترجیح دی جارہی ہے وہ بخاری اور مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح اور صریح ہیں:
عن مجاہد قال، صلیت خلف ابن عمر فلم یکن یرفع یدیہ الا فی التکبیرۃ الاولی من الصلوٰۃ۔(طحاوی شریف ج۱،ص۱۰۰)۔
و فی صحیح مسلم عن جابر بن سمرہ قال خرج علینا رسول اﷲ ﷺ فقال مالی اراکم رافعی ایدیکم کانہا اذناب خیل شمس اسکنوا فی الصلوٰۃ۔ (ج۱، ص۱۸۱)۔
البتہ جہاں تک کسی راوی کے ضعیف ہونے کا تعلق ہے تو اول اس راوی کی نشاندہی کردی جائے تو پھر اس پر بھی انشاء ﷲ کلام کیا جائے گا۔ واﷲ اعلم