کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ان دنوں ہمارے گاؤں میں حیاۃ النبی ﷺ کے موضوع پر مناظرہ ہو رہا ہے ایک فریق کا مؤقف ہے کہ آپ ﷺ اپنی قبر مبارک میں زندہ ہیں دنیاوی زندگی کی طرح اور دوسرے فریق کا مؤقف یہ ہے کہ وہ زندہ ہیں لیکن اس کی کیفیت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے ، ہمیں اس کی خبر نہیں ہوسکتی ، براہِ کرم اس موضوع میں ہماری مدد فرمائیں۔ شکریہ
اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے روضۂ اطہر میں حیات ہیں اور آپ کی یہ حیات مثلِ دنیاوی حیات بلکہ اس سے بھی اعلیٰ و ارفع ہے یہی وجہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی نہ میراث تقسیم ہوتی ہے نہ ان کی ازواج مطہرات سے بعد میں کوئی نکاح کرسکتا ہے ، اس لئے حدیثِ مبارک کی رو سے جو شخص روضۂ اطہر کے پاس آپ علیہ الصلوٰۃ و السلام پر درود پڑھتا ہے تو آپ علیہ السلام اس کو خود سنتے ہیں اور جواب بھی دیتے ہیں اور جو شخص دور سے درود پڑھتا ہے تو اللہ رب العزت فرشتوں کے ذریعے آپ ﷺ تک پہنچاتے ہیں ، مگر بایں ہمہ یہ حیاتِ برزخی ہے جبکہ یہ مسئلہ محض علمی ہے عوام میں اس قسم کے مسائل بیان کرنے اور اس پر مناظرے کرنے سے احتراز لازم ہے۔
و فی صحیح مسلم : عن أنس بن مالکؓ ان رسول اﷲ ﷺ قال أتیت و فی روایۃ ہداب مررت علی موسٰی لیلۃ أسرے بی عند الکثیب الأحمر و ہو قائم یصلی فی قبرہ الحدیث۔(مسلم: ج۲، ص۲۶۸۔ مسند احمد: ج۳، ص۱۴۸)۔
و أخرجہ ابو یعلٰی فی مسندہ : عن أنس بن مالک أن رسول اﷲ ﷺ قال : الأنبیاء أحیاء فی قبورہم یصلون الحدیث(فتح الباری: ج۶، ص۱۴۷)۔
قال الحافظ بن حجرؒ بعد سرد الأحادیث فی حیات الأنبیاء : قلت و اذا ثبت أنہم أحیاء من حیث النقل فانہ یقویہ من حیث النظر کون الشہداء احیاء بنص القرآن و الأنبیاء افضل من الشہداء۔اھـ (ج۶، ص۳۸۸)۔
قال العلامۃ عثمانیؒ بعد سرد الأحادیث فی حیاۃ الأنبیاء : و من شواہد الحدیث ایضًا ما اخرجہ ابو داؤد من حدیث ابی ہریرۃ رفعہ و قال فیہ (و صلو علیّ فإن صلوتکم تبلغنی حیث کنتم) سندہ صحیح و اخرجہ ابو الشیخ فی کتاب الثواب بسند جید(من صلی علیّ عند قبری سمعتہ، و من صلی علیّ نائیا بلغتہ) و عند أبی داؤد والنسائی ، و صححہ ابن خزیمہ و غیرہ ، عن اوس بن اوس رفعہ فی فضل یوم الجمعۃ (فأکثروا فیہ علیّ من الصلاۃ ، فإن صلاتکم معروضۃ علیّ، قالوا : یا رسول اﷲ ، وکیف تعرض صلاتنا علیک و قد أرّمت؟ قال : إن اللہ حرم علی الأرض ان تأکل أجساد الأنبیاء)۔ (فتح الملہم: ج۲، ص۲۸۸)۔
و فی شفاء السقام للسبکیؒ : و ہی ثابتہ للروح بلا اشکال و الجسد قد ثبت أن أجساد الأنبیاء لا تبلی (الی قولہ) فإن الصلاۃ تستدعی جسدًا حیًّا و کذالک الصفات المذکورۃ فی الأنبیاء لیلۃ الإسراء کلہا صفات الأجسام و لا یلزم من کونہا حیاۃ حقیقیۃ أن تکون الأبدان معہا کما کانت فی الدنیا من الإحتیاج إلی الطعام و الشراب و الإمتناع عن النفوذ فی الحجاب الکثیف و غیر ذٰلک من صفات الأجسام التی نشاہدہا بل قد یکون لہا حکم اٰخر ، فلیس فی العقل ما یمنع من إثبات الحیاۃ الحقیقیۃ لہم۔اھـ(ص۱۹۱)۔
قال العلامۃ السیوطیؒ فی الحاوی : حیاۃ النبی ﷺ فی قبرہ ہو و سائر الأنبیاء معلومۃ عندنا علمًا قطعیا لما قام عندنا من الأدلۃ فی ذٰلک ، و تواترت (بہ) الأخبار ، و قد ألف البیہقی جزءً فی حیاۃ الأنبیاء فی قبورہم۔اھـ(الحاوی للفتاویٰ: ص۵۵۴)۔
و فیہ ایضًا : و قال القرطبیؒ فی التذکرۃ (الی قولہ) و ہذہ صفۃ الاحیاء فی الدنیا ، و إذا کان ہذا فی الشہداء فالأنبیاء أحق بذٰلک و أولی و قد صح أن الأرض لا تاکل أجساد الأنبیاء۔اھـ(الحاوی : ص۵۵۶)۔
و فیہ ایضًا : و قال الحافظ شیخ السنۃ ابوبکر البیہقیؒ فی کتاب الاعتقاد : الأنبیاء علیہم السلام بعد ما قبضوا ردت إلیہم أرواحہم فہم أحیاء عند ربہم کالشہداء۔اھـ(ص۵۵۷)۔