مخاصمات

قرآن پر جھوٹا حلف اٹھانے والے کا حکم-جھوٹی قسم سے کسی چیز کے مالک ہونے کی شرعی حیثیت

فتوی نمبر :
60207
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / مخاصمات / مخاصمات

قرآن پر جھوٹا حلف اٹھانے والے کا حکم-جھوٹی قسم سے کسی چیز کے مالک ہونے کی شرعی حیثیت

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں محمد آفتاب جو ۱۹۸۵ء میں ٹھیکداری کا کاروبار کر رہا تھا، میرے ایک دوست نے ، جس کا نام طاہر صدیقی ہے ، مجھ سے کہا کہ میں تمھارے ساتھ ٹھیکداری کے کام میں شریک ہو کر تمھارے کا م کو وسعت دلواسکتا ہوں ، اس کے لیے میرے پاس سرمایہ لگانے والے احباب موجود ہیں، آپ مجھ کو تنخواہ کی بنیاد پر شامل کر لو اور مجھ کو دس سے بارہ ہزار روپے ماہانہ دے دیا کرو ، اس پر میں نے اس کو اپنے ساتھ شامل کرکے تمام آفس کی کاروائی ، رقوم کا لین دین اس کے حوالہ کر دیا ، جبکہ میں نے اپنی کمپنی کا اکاؤنٹ اپنے ذاتی نام سے رکھا اور صرف میرے ذاتی دستخط سے ہی اکاؤنٹ سے رقم نکالی جاسکتی تھی، اس کاروبار کے شروع سال میں وہ ٹھیک چلتے رہے جیسے ہی اللہ نے کاروبار کو وسعت دی تو ان کی نیت بدل گئی ، آخر کار تین سے چار سال کے درمیان میں کاروبار بڑی وسعت اختیار کر گیا، کیونکہ آفس کے تمام کام ان کے حوالے تھے، انہوں نے جعلسازی سے میری کمپنی کے نام پر اپنے دستخط سے اکاؤنٹ نیشنل بنک میں کھول لیا اور تمام رقوم اس میں جمع کروانے لگے ، میرے کہنے پر کہ میرےاکاؤنٹ میں پیسے کیوں جمع نہیں ہو رہے تو انہوں نے ٹال دیا اور آخرکار ایک دن بول اٹھا کہ یہ کاروبار میرے حوالہ کردو ، تم دوسرا کاروبار کرلو ، میں نے جب ان سے حساب کرنے کے لیے کہا تو کہنے لگے، یہ کمپنی تو میری ہے ، میں کیوں حساب کروں؟ اسی پر تنازع ہوتا رہا آخرکار وہ اپنے خالو ، جو خطیبِ مسجد ہیں ، کے پاس جاکر ان کے سامنے قرآن اٹھالیا کہ یہ کاروبار میرا ہے، اس سے آفتاب کا کوئی تعلق نہیں ، اس نے جھوٹا قرآن اٹھا کر مجھے میرے حق سے محروم کردیا اور میری زبان بھی بند کردی، اس دوران مجھے مختلف طریقوں سے تنگ کرتا رہا اور میں مجبور ہوگیا کہ علماء سے اس کے جھوٹا قرآن اٹھانے پر فتویٰ لوں کہ میں اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر سکتا ہوں یا نہیں؟اور جھوٹا قرآن اٹھانے پر یہ مسلمان باقی رہا یا نہیں؟ اور اس جھوٹے کا ساتھ دینے والوں کے لیے شریعت میں کیا حکم ہے؟ میں اللہ کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ مذکور تمام باتیں بالکل سچ ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مفتی غیب نہیں جانتا وہ سوال کے مطابق اصولی جواب دینے کا پابند ہوتا ہے ، سوال کے سچ یا جھوٹ ہونے کی اصل ذمہ داری سائل پر عائد ہوتی ہے ، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور حقیقت پر مبنی ہو بایں طور کہ مذکور کمپنی مسمیٰ آفتاب کی ذاتی ملکیت ہو اور اس کے ملازم مسمیٰ طاہر صدیقی کا اس میں کوئی حق نہ ہو ، تو مذکور ملازم کے محض جھوٹی قسم کھانے، قرآن اٹھانے یا جھوٹ پر مبنی دعویٰ کی بنیاد پر یہ کمپنی اس کی ملکیت شمار نہیں ہوگی ، اس کا مذکور عمل اگر چہ کفر نہیں ، مگر دوسروں کے حقوق کو غصب کرنے اور ان پر ناجائز تسلط کو شامل ہونے کی بناء پر ناجائز اور حرام ضرور ہے ،اس پر لازم ہے کہ اپنے مذکور ناجائز طرزِعمل سے احتراز کرکے صاحبِ حق کو اس کا حق دیکر مواخذۂ دنیوی و اخروی سے سبکدوشی کی فکر کرے ، ورنہ سائل اپنے حق کی خاطر اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا بھی مجاز ہے اور پھر عدالت کو بھی چاہیے کہ وہ واقعہ کی مکمل تحقیق کے بعد اس طرح ناجائز قبضہ کرنے والوں کے خلاف قرارِ واقعی تعزیری سزا جاری کرے، جو دوسرے لوگوں کے لیے بھی باعثِ عبرت ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

في أحكام القرآن للجصاص : ﴿يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم﴾ [النساء: 29] فحظر أخذ مال كل واحد من أهل الإسلام إلا برضاه على وجه التجارة. و بمثله قد ورد الأثر عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله : "لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيبة من نفسه" فمتى لم يرض القاتل بإعطاء المال ، و لم تطب به نفسه فماله محظور على كل أحد اھ(1/ 183)۔
و في جامع الأحاديث : عن ابن مسعود عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : من حلف على يمين يقتطع بها مال امرئ مسلم لقى الله يوم القيامة و هو عليه غضبان قيل يا رسول الله و إن كان يسيرا قال و إن كان سواكا من أراك (ابن عساكر) [كنز العمال 46546](37/ 225)۔
و في الفقه الإسلامي و أدلته : التعزيرات : و هي العقوبات غير المقدرة شرعاً ، و إنما فوض الشرع النظر في نوعها و مقدارها إلى ولي الأمر (الدولة) لمعاقبة المجرم بما يكافئ جريمته ، و يقمع عدوانه ، و يحقق الزجر و الإصلاح ، و يراعي أحوال الشخص و الزمان و المكان و التطور، و ذلك يختلف باختلاف درجة الرقي و تحضر المجتمعات ، و تهذيب الجماعات و أحوال الناس في مختلف الأزمنة و الأمكنة. و أغلب العقوبات في القوانين الوضعية من قبيل التعزير ، لأنها مجرد تنظيم يراعى فيه ما يلائم الجريمة و حال المجرم للزجر و الإصلاح و التقويم و التهذيب ، و تحقيق الأمن و الاستقرار. اھ(7/ 242)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60207کی تصدیق کریں
0     984
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • فریقین میں پیسوں کے متعلق کا قرض اور ہدیہ میں اختلاف کا حکم

    یونیکوڈ   مخاصمات 3
  • سنی کے نام میں ’’شاہ‘‘ ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ ’’شیعہ‘‘ جیسا سلوک کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • قرآن پر جھوٹا حلف اٹھانے والے کا حکم-جھوٹی قسم سے کسی چیز کے مالک ہونے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • باپ کی زندگی میں, بیٹے کا اپنی کمائی سے خریدے ہوئےگھر میں وراثت کا مسئلہ

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • زمین اور گھر کی خریدی کے تین مہینے بعد شفعہ کا دعوی کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • گاڑی گم ہونے پر ، ڈرائیور سے ،زمانۂ گمشدگی کےمتوقع منافع اور گاڑی تلاش کرنے کے اخراجات لینا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • بیٹا اگر ذاتی کمائی سے مکان بنائے تو اس میں اس کے والد اور بھائیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • بلا سببِ شرعی بھائی کی جائیداد میں حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • عورت طلاق کا دعویٰ کرے تو اولاد کی شہادت کی کیا حیثیت ہے ؟

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • ساس کا اپنی بہو کا سونا اس کی اجازت کے بغیر بیٹی کو دیدینا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • حقوق ادا نہ کرنے والے اور طلاق نہ دینے والے شوہر سے خلاصی کا طریقہ

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • شوہر کی جانب سے اپنی بیوی پر کسی سے ناجائز تعلقات کے دعوے میں جرگہ کی رہنمائی

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • دوسرے کی زمین غصب کرنے کا حکم-اور اس کو اسی وجہ سے قتل کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • جرگے کا عورت کے حق میں شوہر کے خلاف یکطرفہ پابندیا ں عائد کرنا

    یونیکوڈ   انگلش   مخاصمات 0
  • مشترکہ گھر کی دیوار میں دو بھائیوں کے درمیان تنازعہ اور اس کا حکم

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • زمین پندرہ سال سے زائد ملکیت میں ہو اور بلا مانع شرع کوئی مدعی سامنے نہ آئے

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • سرکاری انتقال کے بغیر خریدی گئی زمین کی ملکیت کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • جرگہ کا فیصلہ نہ ماننے سے شفعہ کاحق باقی رہے گا یا نہیں؟

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
Related Topics متعلقه موضوعات