احکام نماز

بریلوی مسلک کی مساجد میں باجماعت نماز پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
60046
| تاریخ :
2009-06-25
عبادات / نماز / احکام نماز

بریلوی مسلک کی مساجد میں باجماعت نماز پڑھنے کا حکم

بریلوی مسلک کی مساجد میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے، جبکہ امام کا حال معلوم نہ ہو ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بریلوی امام اگر محض بدعات و رسومات کا مرتکب ہو اور کسی قسم کے عقائدِ فاسدہ، باطلہ اور مشرکانہ ، کا حامل نہ ہو تو تنہا نماز پڑھنے کے بجائے اس کی اقتداء میں باجماعت نماز ادا کرنا بلاشبہ جائز اور درست، بلکہ بہتر ہے، ورنہ اس سے احتراز واجب ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

و فی الدر مع الرد : صلی خلف فاسق أو فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة أفاد أن الصلوة خلفھا أولی من الانفراد اھ(1/562)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60046کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات