بریلوی مسلک کی مساجد میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے، جبکہ امام کا حال معلوم نہ ہو ؟
بریلوی امام اگر محض بدعات و رسومات کا مرتکب ہو اور کسی قسم کے عقائدِ فاسدہ، باطلہ اور مشرکانہ ، کا حامل نہ ہو تو تنہا نماز پڑھنے کے بجائے اس کی اقتداء میں باجماعت نماز ادا کرنا بلاشبہ جائز اور درست، بلکہ بہتر ہے، ورنہ اس سے احتراز واجب ہے۔
و فی الدر مع الرد : صلی خلف فاسق أو فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة أفاد أن الصلوة خلفھا أولی من الانفراد اھ(1/562)۔