ایک حنفی امام صاحب جب شوافع کی مسجد میں جاتےہیں تو اُن کے طریقے کے مطابق نماز پڑھاتے ہیں اور اپنی مسجد میں حنفی کے طریقے پر پڑھاتے ہیں تو ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟تفصیل کے ساتھ جواب دیں۔
مذکور امام موصوف کا یہ طرزِعمل تلفیق کے زُمرے میں ہونے کی بناء پر بلاشبہ ناجائز اور حرام ہے اور اس طرزِ عمل سے مذہبی پابندیوں سے بے پرواہی اور خواہشات پرستی کو رواج ملنے کا شدید خطرہ ہے، اس لیے امام موصوف پر لازم ہے کہ محض خواہشات پرستی یا لوگوں کو خوش کرنے کی غرض سے ایسا کرنے سے احتراز کرے، تاہم اگر حنفی المسلک مسجد میں نماز کے پورے آداب و شرائط ملحوظ رکھتے ہوئے نماز پڑھا دے اور اس کی اقتداء میں کوئی شخص نماز پڑھ لے تو شرعاً اس کی وہ نماز درست کہلائےگی۔
ففی حاشية ابن عابدين: ولو كان لكل مذهب إمام كما في زماننا فالأفضل الاقتداء بالموافق سواء تقدم أو تأخر، على ما استحسنه عامة المسلمين وعمل به جمهور المؤمنين من أهل الحرمين والقدس ومصر والشام، ولا عبرة بمن شذ منهم. اهـ. والذي يميل إليه القلب عدم كراهة الاقتداء بالمخالف ما لم يكن غير مراع في الفرائض، لأن كثيرا من الصحابة والتابعين كانوا أئمة مجتهدين وهم يصلون خلف إمام واحد مع تباين مذاهبهم، وأنه لو انتظر إمام مذهبه بعيدا عن الصفوف لم يكن إعراضا عن الجماعة للعلم بأنه يريد جماعة أكمل من هذه الجماعة اه (1/ 564)
وفی الدر المختار: وأن الحكم الملفق باطل بالإجماع، وأن الرجوع عن التقليد بعد العمل باطل اتفاقا، وهو المختار في المذهب اھ(1/ 75)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: وأن الحكم الملفق) المراد بالحكم الحكم الوضعي كالصحة.(إلی قوله) والتلفيق باطل اه (1/ 75) والله أعلم بالصواب!