اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ

انبیاءِ کرام کے بنائے جانے والے گستاخانہ خاکوں سے متعلق احکامات

فتوی نمبر :
59919
| تاریخ :
2007-06-15
آداب / شعائر اسلام / اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ

انبیاءِ کرام کے بنائے جانے والے گستاخانہ خاکوں سے متعلق احکامات

مفتی صاحب! آج کل جو مسلمانوں پر کارٹون بنے ہیں، اس پر آپ لوگوں نے کوئی فتویٰ جاری کیاہو تو مجھے ضرور بھیجیۓ، آپ کی بڑی نوازش ہوگی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر سائل کی مراد ڈنمارک وغیرہ کے اخبارات میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکے ہیں تو واضح ہو کہ تمام ادیانِ سماویہ میں انبیاءِ کرام علیہم السلام کو قابلِ قدر اور واجب الاحترام ہستیاں شمار کیا جاتاہے، حتی کہ ان مقدس ہستیوں کی توہین و گستاخی کرنے والے شخص کو دائرۂ اسلام سے خارج اور مرتد قرار دیا جاتاہے،چنانچہ دینِ اسلام جو تمام ادیانِ سماویہ میں سے کامل ترین دین ہے، باقی انبیاءِکرام کے بارے میں عموماً اور نبی کریمﷺ کی ذاتِ عالی سے متعلق خصوصاً ایسی ناپاک جسارت کو قطعاً برداشت نہیں کرتا، چنانچہ حسین ابن علی رضی اللہ عنہما اپنے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: "من سب نبیاً فاقتلوہ ومن سب أصحابی فاضربوہ" جو کسی نبی کو سب وشتم (ان کی بے عزتی ) کرے، اسے قتل کردو اور جو میرے صحابہ کو گالی دے اس کو زد و کوب کرو اور خود نبی کریم ﷺ نے کعب بن اشرف، ابورافع یہودی اور ابن خطل کو غلافِ کعبہ کے ساتھ لپٹ جانے کے باوجود قتل کرنے کا حکم جاری فرمایا تھا کہ وہ نبی کریم ﷺکی شان میں گستاخی کرنے پر اتر آئے تھے۔
لہٰذا آپ ﷺکے اس طرزِ عمل سے معلوم ہوا کہ ایسا بدبخت شخص اگر مسلمان ہو تو وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے، پھر ایسا بدطینت شخص اگر دارالاسلام میں ہو ،چاہے وہ اس حرکت سے پہلے مسلمان ہو یا کا فر، اسے تعزیراً قتل کرنے کا حکم ہے، تاکہ آئندہ کے لۓ کسی خبیث النفس کو ایسے گھناؤ نے جرائم کے ذریعے مسلمانوں کے دل دکھانے اور سینے چھلنی کرنے کی جرات نہ ہو سکے اور اگر یہ خبیث فعل کرنے والا کافر ملک کا باشندہ ہو، جیسا کہ مذکورہ پیش آمدہ صورت میں ہے تو اس صورتحال میں تمام مسلمان سربراہانِ مملکت اور عام مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس قبیح حرکت کے صدور پر ایسا طرزِ عمل اختیار کریں جس سے متعلقہ ممالک مجبور ہو کر اسے برسرِ عام قرارِ واقعی سزا دیدیں ،یا متعلقہ افراد علی الاعلان مسلمانوں سے ان کی دل آزاری پر اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہ پر معافی مانگیں اور آئندہ کے لۓ اس قبیح حرکت کو دہرانے سے مکمل احتراز کریں، اور مسلم سربراہان کو یہ بھی چاہیۓ کہ دیگر ممالک کے افراد کے ساتھ مل کر عالمی طور پر ایسے قوانین ترتیب دیں، جن کی وجہ سے آئندہ اس جیسے جرائم کاسدِ باب کیا جاسکے، مگر اب تک کی صورتحال کے پیش نظر باوجود یکہ کئی ممالک میں ان توہین آمیز خاکوں کے شائع کرنے کے خلاف، حتی کہ بعض غیر مسلم ممالک میں بھی مظاہرے کیے گئے اور تا حال جاری بھی ہیں، مگر ابھی تک نہ تو متعلقہ افراد واداروں یا ممالک نے اپنے اس عمل پر ندامت کا اظہار کیا ہے اور نہ ہی معذرت کی کوئی صورت اختیار کی گئی ہے، ایسی صورت حال میں عوام الناس اور مسلم ممالک کے سربراہان پر برابر لازم ہے کہ وہ ایسے اداروں اور ممالک سے اس وقت تک مکمل اقتصادی، معاشی،سماجی سیاسی اور سفارتی وغیرہ بائیکاٹ کریں اپنی حمیتِ اسلامی کے تحت ان کی مصنوعات کے استعمال سے احتراز کریں، جب تک کہ وہ اس پر معذرت نہ کر لیں، اور اگر اس کے باوجود بھی وہ مسلمانوں کی دل آزاری سے باز نہ آئیں اور کوئی مسلمان توہینِ رسالت کے ان مجرموں تک رسائی حاصل کر لے اور عشقِ نبی سے سرشار، غیرتِ ایمانی سے مغلوب ہو کر ایسے بدبختوں کو ان کے انجام تک پہنچا دے تو اس کا یہ عمل یقیناً امتِ مسلمہ کے لۓ باعثِ صد افتحار ہوگا، اور اگر اس کے نتیجے میں اسے قصاصاً قتل بھی کردیا جائے، تب بھی مرتبۂ شہادت پائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُهِينًا﴾ (الأحزاب: 57)۔
وفی التفسير المظهري: تحت ھذه الآیة: من أذى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - بطعن فى شخصه او دينه او نسبه او صفة من صفاته او بوجه من وجوه الشين فيه صراحة او كناية او تعريضا او اشارة كفر ولعنه الله فى الدنيا والاخرة واعدّ له عذاب جهنم وهل يقبل توبته؟ قال ابن همام كل من ابغض رسول الله - صلى الله عليه وسلم - بقلبه كان مرتدّا فالسباب بالطريق الاولى ويقتل عندنا حدّا فلا تقبل توبته فى إسقاط القتل قالوا هذا مذهب اهل الكوفة ومالك ونقل عن ابى بكر الصديق - رضى الله عنه - ولا فرق بين ان يجئ تائبا بنفسه او شهدوا عليه بذلك بخلاف غيره من موجبات الكفر فان الإنكار فيها توبة ولا تعمل الشهادة معه حتى قالوا بقتل ان سبّ سكران ولا يعفى عنه ولا بد من تقييده بما إذا كان سكره بسبب محظور باشره باختياره بلا اكراه والا فهو كالمجنون وقال الخطابي لا اعلم أحدا خالف فى وجوب قتله (7/ 382،381)۔
وقال اللہ تعالی: ﴿مَلْعُونِينَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا، سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا﴾(الأحزاب: 61، 62)۔
وفی أحکام القران للتھانوی: تحت ھذہ الأية: إشاعة مایوجب ایذاء المسلمین یوجب التعزیر و الإجلاء و القتل باختلاف درجاتہ قال الإمام ابو بکر الجصاص فی ھذہ الأية دلالة علی أن الارجاف بالمؤمنین و الإشاعة لما یغمھم و یؤذیھم یستحق به التعزیر و النفی اذا أصر علیه و لم ینته عنه الخ (2/503)۔
وفی صحیح البخاری: عن البراء بن عازب - رضي الله عنهما - قال بعث رسول الله - صلی اللہ علیه وسلم- رهطا إلى أبي رافع فدخل عليه عبد الله بن عتيك بيته (بيته) ليلا وهو نائم فقتله(الی قوله ) وكان أبو رافع يؤذي رسول الله ويعين عليه الخ (2/577)۔
وفی التوشيح شرح الجامع الصحيح: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ المِغْفَرُ، فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الكَعْبَةِ، فَقَالَ: «اقْتُلْهُ»، قَالَ مَالِكٌ: «وَلَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيمَا نُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا». (المغفر)، زاد الدارقطني: "من حديد".
(اقتلوه)، زاد ابن حبان: "فقتل"، قال ابن إسحاق: "قتل سعيد بن حريث وأبو برزة الأسلمي ، اشتركا في قتله"، وفي "أخبار مكة" لعمر بن شبة بسند جيد عن السائب بن يزيد: "رأيت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - استخرج من تحت أستار الكعبة عبد الله بن خطل، فضرب عنقه صحوًا بين زمزم ومقام إبراهيم".(6/ 2652)۔
وفی صحيح البخاري: عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما: أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «من لكعب بن الأشرف، فإنه قد آذى الله ورسوله»، قال محمد بن مسلمة: أتحب أن أقتله يا رسول الله؟ قال: «نعم»، قال: فأتاه، فقال: إن هذا - يعني النبي - صلى الله عليه وسلم - قد عنانا وسألنا الصدقة، قال: وأيضا، والله لتملنه، قال: فإنا قد اتبعناه فنكره أن ندعه، حتى ننظر إلى ما يصير أمره، قال: فلم يزل يكلمه حتى استمكن منه فقتله اھ(4/ 64)۔
وفی الفتاوی الخیرية: سئل فی نصرانی ذمی يجرأ علی الجناب الرفیع المحمد - صلى الله عليه وسلم - بالسب فماذا یلزمه شرعا خصوصا اذا کان قصد غبط المسلمین و مدحۃ النصرانية و مذمة الإسلامية (أجاب) یبالغ فی عقوبته و لو بالقتل فقد صرح علماؤنا فانه یجوز الترقی فی التعزیر إلی القتل لأعظم موجبة و أی شیئ من موجبات التعزیر اعظم من سب رسول اللہ - صلى الله عليه وسلم - وھذا الذی تمیل إلیه نفس المؤمن فینبعی لحکام المسلمین قتله کئ لا یتجرء اعداء الدین إلی احراق افئدہ المسلمین بسب نبیھم من الکفرة المرتدین اھ(ص:103)۔
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله وسب النبي - صلى الله عليه وسلم - أي إذا لم يعلن، فلو أعلن بشتمه أو اعتاده قتل، ولو امرأة وبه يفتى اليوم در منتقى وهذا حاصل ما سيذكره الشارح هنا اھ(4/ 213)۔
وفی الدر المختار: (الكافر بسب نبي) من الأنبياء فإنه يقتل حدا ولا تقبل توبته مطلقا الخ
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله الكافر بسب نبي) في بعض النسخ والكافر بواو العطف وهو المناسب (قوله فإنه يقتل حدا) يعني أن جزاءه القتل على وجه كونه حدا، ولذا عطف عليه قوله ولا تقبل توبته لأن الحد لا يسقط بالتوبة فهو عطف تفسير؛ وأفاد أنه حكم الدنيا، أما عند الله تعالى فهي مقبولة كما في البحر اھ(4/ 2۳۱،232)۔
وفی الاعتقاد الخالص من الشك والانتقاد: حديث عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنَّه قال: "من سبَّ نبيًّا فاقتلوه"، وأهدر رسول الله - صلى الله عليه وسلم - دم من سبَّه - صلى الله عليه وسلم -، ولم يوجب فيه قوداً ولا ديةً، رواه أبو داود في سننه اھ( 197)۔
وفی منهج الشيخ عبد الرزاق عفيفي وجهوده في تقرير العقيدة والرد على المخالفين: ويحكي ابن تيمية - رحمه الله - الإجماع على كفر ساب نبي من الأنبياء أو إنكار رسالته، فيقول: "من خصائص الأنبياء أن من سب نبياً من الأنبياء قتل باتفاق الأئمة، وكان مرتداً، كما أن من كفر به وبما جاء به كان مرتداً، فإن الإيمان لا يتم إلا بالإيمان بالله وملائكته ورسله".
ويقول أيضاً: "والمسلمون آمنوا بالأنبياء كلهم ولم يفرقوا بين أحد منهم، فإن الإيمان بجميع النبيين فرض واجب، ومن كفر بواحد منهم فقد كفر بهم كلهم، ومن سبّ نبياً من الأنبياء فهو كافر يجب قتله باتفاق العلماء" اه(ص: 367)۔
وفی النتف: من سب رسول اللہ - صلی اللہ علیه و سلم - فانه مرتد ،حکمه حکم المرتد و یفعل به مایفعل بالمرتد اھ (427)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59919کی تصدیق کریں
0     1214
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • اللہ رب العزت اورنبی کریم ﷺ کے لئے عشق کا لفظ استعمال کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • ٹی وی پر براہِ راست روضہ مبارک دیکھتے ہوئے سلام پیش کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • انبیاءِ کرام کے بنائے جانے والے گستاخانہ خاکوں سے متعلق احکامات

    یونیکوڈ   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • تبرکاتِ نبویؐ کی تصاویر کے احترام کا حکم

    یونیکوڈ   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • آپ ﷺ کی حیات ، دنیوی حیات کی طرح بلکہ اس سے بھی ارفع و اقوی ہے

    یونیکوڈ   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • عصمتِ انبیاء کا مطلب و مفہوم

    یونیکوڈ   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • فلموں میں حضرات انبیاءکرام وصحابہ کرام کا کردار ادا کرنا، اور اُن کی خرید وفروخت کا حکم

    یونیکوڈ   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • مخصوص درود پڑھنے کا حکم

    یونیکوڈ   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • درود وسلام پڑھتے وقت حضورﷺ کے نام مبارک کے ساتھ لفظ ’’سیدنا‘‘ کا اضافہ کرنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • آپ ﷺ کے نام مبارک کی انگلش صحیح اسپیلنگ کیا ہے ؟

    یونیکوڈ   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • نبی کریم ﷺ کے بارے میں گستاخانہ نظریات رکھنا

    یونیکوڈ   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • درود شریف پر نعلین مبارک کا خاکہ لگانا

    یونیکوڈ   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • نبی ﷺ کو کالی کملی والا کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • کس صحابی کا چہرہ نبی ﷺ سے مشابہ تھا؟

    یونیکوڈ   انگلش   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
Related Topics متعلقه موضوعات